تذکرہ — Page 769
ڈاک میں خط آیا کہ قاضی صاحب۱؎فوت ہوگئے ہیں۔‘‘ (الحکم جلد ۴۲نمبر ۵، ۶مورخہ ۱۴ ،۲۱؍ فروری ۱۹۳۹ءصفحہ ۳ ) ۱۹۰۴ء میاں عبدالعزیز صاحبؓ سکنہ لاہو رالمعروف مغل نے بیان کیا کہ۔’’ایک دفعہ گورداسپور میں حضور ؑ نے صاحبزادہ مبارک احمد کو بوسہ دیا تو حضور ؑ نے فرمایا کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ اس کو چُومو۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۹ صفحہ ۴۵) ۷؍ اکتوبر۱۹۰۴ء چودھری محمد علی خان صاحبؓ اشرف ہیڈ ماسٹر بیرم پور نے بیان کیا کہ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ) اسی مقدّمہ کرم دین کی آخری پیشی پر تاریخ فیصلہ سے ایک دن قبل بوقت نماز عصر … فرمایا کہ ہم نے رؤیا دیکھی ہے کہ ہم سفید گھوڑے پر سوار باہر سے گھر کو آرہے ہیں۔(مفہوم) اور ہمارے گھر والے یہ الفاظ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا نقصان ہوگیا ہے (غالباً روپوں کا) تو مَیں نے کہا کہ کچھ مضائقہ نہیں۔مَیں تو سلامت آگیا ہوں۔اِس رؤیاکی تعبیر آپ ؑ نے یہ فرمائی کہ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ منصف ( جو بے حد متعصب آریہ ہے اور آنحضور ؑ کے خلاف فیصلہ دینے پر تلا ہوا ہے )ہمیں جرمانہ وغیرہ کی سزا دے گا اور دوسری قِسم کی سزا نہ دے سکے گا۔بالآخر عدالت ِ عالیہ سے ہم بَری ثابت ہوں گے اور اس کی شرارتوں سے ہم بچ کر سلامت رہیں گے چنانچہ دوسرے دن یہی وقوعہ پیش آیا کہ منصف نے آپ ؑ کے خلاف جرمانہ کا حکم سنایا جو اُسی وقت ادا کیا گیا …اور اپیل کرنے پر جرمانہ بھی معاف ہوگیا۔‘‘ (الحکم جلد ۳۸ نمبر ۳ مورخہ ۲۸؍ جنوری ۱۹۳۵ء صفحہ ۴ ) ۸؍ اکتوبر۱۹۰۴ء شکر الٰہی صاحب موضع نبی پور ضلع گورداسپور نے بیان کیا کہ۔’’مولوی کرم دین کے مقدمہ کے فیصلہ …کے (دن) عصر کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام درختوں کے نیچے …ٹہل رہے تھے …ٹہلتے ٹہلتے آپ ٹھہر گئے۔مولوی صاحب ( یعنی حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو کچھ فرمایا اور اُسی وقت (عدالت سے) آواز پڑگئی۔شیڈ میں آیا تھا کہ آپ ؑ نے مولوی صاحب کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ مولوی صاحب ! کیا دیکھتا ہوں کہ میرا رُومال تالاب میں گر گیا ہے۔ٹٹولنے سے مل گیا ہے۔فرمانے لگے کہ کچھ جرمانہ ہوگا مگر معاف ہوجاوے گا۔سو ایسا ہی ہوا۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۳صفحہ ۱۱۴) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) قاضی صاحب مرحوم کے فرزند قاضی محمد عبداللہ صاحب سابق ناظر ضیافت سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اُن کے والد صاحب موصوف کی وفات ۱۵؍ مئی ۱۹۰۴ء کو ہوئی تھی۔