تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 756 of 1089

تذکرہ — Page 756

۱۴ ؍ مئی۱۸۹۵ء ’’ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْـحَ یُوْسُفَ لَوْ لَا اَنْ تُفَنِّدُ وْنِ۔قِیْلَ ارْجِعْ اِلٰی مَکَانِکَ۔وَ فَضَّلَہٗ قَـوْمٌ مُّتَشَاکِسُوْنَ۔اِنَّـھُمْ قَـوْمٌ وَرِثُوْہُ۔اِنْ تَوَلّٰی تُوَلّٰی۔اِنِّیْ اَرٰی۔‘‘۱؎ (تحریر حکیم مولوی قطب الدین صاحبؓ ) ۱۶؍ نومبر۱۸۹۵ء ’’زمین پر ایک ہی نام بخشا گیا۔تفہیم۔جس پر یَغْفِرُلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّ مَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ ۲؎۔بولا گیا۔‘‘ (جیبی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ عنہ) ۱۸۹۶ء/۱۸۹۷ء حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ بیان کرتے ہیں۔’’۱۳۱۴ھ کا ذکر ہے جب میرے ہاں لڑکی ساجدہ پیدا ہونے والی تھی۔جمعہ اور پنجگانہ نماز کے پڑھانے کا مجھے حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حکم تھا۔مَیں جمعہ کا خطبہ پڑھ رہا تھا اور سورۃ مومنون کا رکوع اَنْشَانَاہُ خَلْقًا اٰخَرَ تک پڑھا۔دوسرے روز آپ ؑ نے مجھے فرمایا کہ سورۃ مومنون کی آیات جس قدر تم نے خطبہ میں پڑھیں وہ ساتھ کے ساتھ ہم پر الہام ہوتی رہیں۳؎۔یہ تمہارا خطبہ مقبول ہوگیا۔‘‘ (البشریٰ قلمی نسخہ مرتبہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ صفحہ ۷۶حاشیہ) ۱ (ترجمہ از مرتّب) مَیں تو یوسف کی خوشبو پاتا ہوں، اگر تم مجھے بہکا ہوا نہ سمجھو۔کہا جائے گا اپنی جگہ پر واپس جا اور اسے مخالف قوم نے فضیلت دی۔یہ وہ قوم ہیں جو اس کے وارث ہوئے ہیں اگر اس نے دوستی رکھی تو دوستی رکھی جائے گی۔یقینا مَیں دیکھتا ہوں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اللہ تیری ہر سابقہ اور آئندہ ہونے والی لغزش بخش دے گا۔۳ ’’ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ۔الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ۔وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ۔وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ۔وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ۔اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ۔فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ۔وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۔وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ۔اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ۔الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِيْنٍ۔ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ۔ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ۔‘‘ (المؤمنون: ۱ تا ۱۵)