تذکرہ — Page 51
باشندۂ لودہیانہ ہے۔اس عالمِ کشف میں اس کا تمام پتہ و نشان سکونت بتلادیا جو اَب مجھ کو یاد نہیں رہا۔صرف اتنا یاد رہا کہ سکونت خاص لودہیانہ اور اُس کے بعد اُس کی صفت میں یہ لکھا ہوا پیش کیا گیا۔سچا ارادت مند۔اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَافِی السَّمَآءِ؎۱ یعنی اس کی ارادت ایسی قوی اور کامل ہے کہ جس میں نہ کچھ تزلزل ہے نہ نقصان ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۵۱۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (ب) ’’ میں نے قریب صبح کے کشف کے عالم میں دیکھا کہ ایک کاغذ میرے سامنے پیش کیا گیا اس پر لکھا ہے کہ ’’ایک ارادت مند لدھیانہ میں ہے۔‘‘ پھر اس کے مکان کا پتہ مجھے بتایا گیا اور نام بھی بتایا گیا جو مجھے یاد نہیں اور پھر اس کی ارادت اور قوتِ ایمانی کی یہ تعریف اسی کاغذ میں لکھی ہوئی دکھائی۔اَصْلُھَا ثَا بِتٌ وَّ فَرْعُھَا فِی السَّمَآءِ‘‘ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون شخص ہے مگر مجھے شک پڑتا ہے کہ شاید خداوند ِ کریم آپ ہی میں وہ حالت پیدا کرے یا کسی اور میں۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘ (از مکتوب بنام نواب علی محمد خان صاحبؓ جھجر۔مکتوبات احمد جلد ۳ صفحہ ۳۹ مطبوعہ ۲۰۱۳ء) ۱۸۸۳ء بقیہ حاشیہ۔تھے اور ایسے ہی انہوں نے اس زمانہ میں آثار ظاہر کئے کہ ان کے لئے بجز میرے ذکر کے اور کوئی ورد نہ تھااور ہر ایک میرے خط کو نہایت درجہ متبرک سمجھ کر اپنے ہاتھ سے اس کی نقل کرتے تھے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے اور اگر ایک خشک ٹکڑا بھی دستر خوان کا ہو تو متبرک سمجھ کر کھاجاتے تھے اور سب سے پہلے لدھیانہ سے وہی قادیان میں آئے تھے۔ایک مرتبہ مجھ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے دکھایا گیا کہ عبّاس علی ٹھوکر کھائے گا اور برگشتہ ہوجائے گا۔وہ میرا خط بھی اُنہوں نے میرے ملفوظات میں درج کرلیا۔بعد اس کے جب اُن کی ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے مجھ کو کہا کہ مجھ کو اس کشف سے جو میری نسبت ہوا بڑا تعجب ہوا کیونکہ میں تو آپ کے لئے مرنے کو تیار ہوں۔میں نے جواب دیا کہ جو کچھ آپ کے لئے مقدر ہے وہ پورا ہوگا۔بعد اس کے جب وہ زمانہ آیا کہ میں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو وہ دعویٰ اُن کو ناگوار گذرا۔اوّل دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتے رہے بعد اس کےاس مباحثہ کے وقت جو مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب سے لدھیانہ میں میری طرف سے ہوا تھا اور اس تقریب سے چند دن اُن کو مخالفوں کی صحبت بھی میسر آگئی تو نوشتہءِ تقدیر ظاہر ہوگیا اور وہ صریح طور پر بگڑ گئے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۰۷) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اس کی جڑ زمین میں محکم ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہیں۔