تذکرہ — Page 675
۳۔تیرے لئے یہ مبارک ہے۔یہ ہے جس سے بعض لوگ چھوڑ دیئے جائیں گے بعض پکڑے جائیں گے۔۴۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔کہہ یہ کام خدا نے کیا ہے پھر ان کو تو چھوڑ دے جو چاہیں خیال کریں۔۵۔تیری عاجزانہ راہیں اُس کو پسند آئیں۔۶۔اِنِّیْ اَنَـرْتُکَ وَ اٰثَـرْتُکَ۔میں نے تجھے روشن کیا اور میں نے ہی تجھے چُن لیا۔۷۔جو دعائیں آج قبول ہوئیں ان میں قوت اور شوکت ِ اسلام بھی ہے۔۸۔یا اللہ ! اب شہر کی بَلائیں بھی ٹال دے۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۹۱، ۸۹، ۸۸) ۱۷؍ مارچ۱۹۰۷ء ’’۱۔کُلٌّ لَّکَ وَ لِاَمْرِکَ۔۱؎ ۲۔تیرے لئے ایک خزانہ مخفی تھا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۸۷) ۱۸؍ مارچ۱۹۰۷ء ’’ ۱۔قدرت کے دروازے کھلے ہیں۔۲۔نیکی یہی ہے کہ خدا کے احکام کو پورا کرنا۔۳۔تیری عاجزانہ راہیں اُس کو پسند آئیں۔۴۔اِنِّیْ اَنَـرْتُکَ وَ اٰثَـرْتُکَ۔۲؎ ۵۔جو دعائیں آج قبول ہوئیں ان میں قوت اور شوکت ِ اسلام بھی ہے۔۳؎ ۶۔تیرے لئے ایک خزانہ مخفی تھا۔۷۔کُلٌّ لَّکَ وَلِاَمْرِکَ۔۱؎ ۸۔یا اللہ ! اب شہر کی بَلائیں بھی ٹال دے۔۲؎ ۹۔ایک موسیٰ۳؎ ہے مَیں اس کو ظاہر کروں گا اور لوگوں کے سامنے اس کو عزت دوں گا۔۱۰۔اَجُرُّ الْاَثِیْمَ وَ اُرِیْہِ الْـجَــحِیْمَ۔(ترجمہ حسب ِتفہیم) اور جس نے میرا گناہ کیا ہے مَیں اس کو گھسیٹوں گا اور اس کو دوزخ دکھلاؤں گا۔۱۱۔بَـلَجَــتْ اٰیَـاتِیْ۔۱۲۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔‘‘۴؎ ۱ (ترجمہ) ۱۔سب تیرے لئے اور تیرے حکم کے لئے ہے۔(بدر ۲۱؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۲ (ترجمہ) ۴۔مَیں نے تجھے روشن کیااور تجھے برگزیدہ کیا۔(بدر مورخہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’میرے ایک دوست سیّدناصر شاہ اور سیئر اِس گردش اور تشویش میں مبتلا ہوگئے تھے کہ وہ گلگت میں تبدیل کئے گئے تھے اور وہ سفر شدید اور تکالیف ِ شاقہ کا تحمل نہیں کرسکتے تھے آخر وہ رخصت لے کر دعا کرانے کے لئے میرے پاس آئے تا وہ جموں میں متعین ہوں اور گلگت میں نہ جائیں اور یہ اَمر بظاہر محال تھا کیونکہ گلگت میں ان کی تبدیلی ہوچکی تھی اِس لئے وہ نہایت مضطرب تھے۔مَیں نے ایک رات ان کے لئے اور نیز کئی اور دعائیں کیں اور شوکت ِ اسلام کے لئے بھی دعا کی اور نمازِ تہجد میں دعائیں کرتا رہا تب تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ خدا نے مجھے خبر دی کہ تمام دعائیں قبول ہوگئیں جن میں قوت اور شوکتِ اسلام بھی ہے۔اِس پیرایہ میں مجھے اطلاع دی گئی کہ سیّدناصر شاہ کی تبدیلی ملتوی کی گئی۔مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ خدا نے اُن کے بارے میں میری دعا قبول کی… فی الفور مَیں نے اُن کو اطلاع دے دی کہ تمہاری نسبت میری دعا قبول ہوگئی۔پھر بعد اس کے شاید تیسرے دن یا چوتھے دن ریاست کے کسی اہلکار کا اُن کو خط آگیا کہ آپ کی تبدیلی ملتوی کی گئی۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۵۹۶)