تذکرہ — Page 632
یکم اگست۱۹۰۶ء ’’دیکھا کہ زلزلہ آیا ہے۔پھر الہام ہوا۔۱۔اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔۲۔اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ۔‘‘۱؎ (بدر جلد ۲ نمبر ۳۲ مورخہ ۹ ؍ اگست ۱۹۰۶صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۸ مورخہ ۱۰ ؍ اگست۱۹۰۶صفحہ ۱) ۵؍ اگست۱۹۰۶ء ’’۵؍اگست ۱۹۰۶ء کو ایک دفعہ نصف حصّہ اسفل بدن کا میرا بے حِس ہوگیا اور ایک قدم چلنے کی طاقت نہ رہی… مجھے خیال گزرا کہ یہ فالج کی علامات ہیں۔ساتھ ہی سخت درد تھی۔دِل میں گھبراہٹ تھی۔کروٹ بدلنا مشکل تھا۔رات کو جب مَیں بہت تکلیف میں تھا تو مجھے شماتت ِ اعدا کا خیال آیا مگر محض دین کے لئے نہ کِسی اَور امر کے لئے۔تب مَیں نے جنابِ الٰہی میں دعا کی…تب مجھے تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ الہام ہوا۔اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِ یْـرٌ۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یُـخْزِی الْمُؤْمِنِیْنَ۔یعنی خدا ہر چیز پر قادر ہے اور خدا مومنوں کو رُسوا نہیں کیا کرتا۔پس اُسی خدائے کریم کی مجھے قَسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جو اِس وقت بھی دیکھ رہا ہے کہ مَیں اس پر اِفترا کرتا ہوں یا سچ بولتا ہوں کہ اِس الہام کے ساتھ ہی شاید آدھ گھنٹہ تک مجھے نیند آگئی اور پھر یک دفعہ جب آنکھ کھلی تو مَیں نے دیکھا کہ مرض کا نام و نشان نہیں رہا۔تمام لوگ سوئے ہوئے تھے اور مَیں اُٹھا اور امتحان کے لئے چلنا شروع کیا تو ثابت ہوا کہ مَیں بالکل تندرست ہوں۔‘‘ ( حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۳۴۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۲۴۵ ،۲۴۶) ۵؍اگست ۱۹۰۶ء ’’ لِیَقْضِیَ اللہُ بَیْنَنَا۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۹۱) ۱۳؍اگست۱۹۰۶ء اور اس سے ما قبل دو چار روز کے الہامات یہ ہیں۔’’۱۔دیکھ مَیں آسمان سے تیرے لئے برساؤں گا اور زمین سے نکالوں گا پر وہ جو تیرے مخالف ہیں پکڑے جائیں گے۔(یہ فقرہ کہ پکڑے جائیں گے اس سے مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے کھلے کھلے ۱ (ترجمہ) ۱۔مَیں حفاظت کرنے والا ہوں ان سب کی جو دار میں ہیں۔۲۔مَیں نے چاہا کہ خلیفہ بناؤں پس مَیں نے آدم کو خلیفہ بنایا۔(بدر مورخہ ۹؍ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۳ (ترجمہ از ناشر) تا اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائے۔