تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 633 of 1089

تذکرہ — Page 633

نشانوں کے سامنے ملزم اور لاجواب اور ساکت ہوجائیں گے۔) ۲۔صحن میں ندیاں چلیں گی اور سخت زلزلے۱؎آئیں گے۔۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔(الف) ’’ خدا تعالیٰ نے مجھے صرف یہی خبر نہیں دی کہ پنجاب میں زلزلے وغیرہ آفات آئیں گی کیونکہ مَیں صرف پنجاب کے لئے مبعوث نہیں ہوا بلکہ جہاں تک دُنیا کی آبادی ہے ان سب کی اِصلاح کے لئے مامور ہوں۔پس مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ آفتیں اور یہ زلزلے صرف پنجاب سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ تمام دُنیا ان آفات سے حصّہ لے گی اور جیسا کہ امریکہ وغیرہ کے بہت حصّے تباہ ہوچکے ہیں۔یہی گھڑی کسی دن یورپ کے لئے درپیش ہے اور پھر یہ ہولناک دن پنجاب اور ہندوستان اور ہر ایک حصّہ ایشیا کے لئے مقدّر ہے۔جو شخص زندہ رہے گا وہ دیکھ لے گا۔‘‘ ( حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۲۰۰ حاشیہ) (ب) ’’ یاد رہے کہ خدا نے مجھے عام طور پر زلزلوں کی خبر دی ہے۔پس یقیناً سمجھو کہ جیسا کہ پیشگوئی کے مطابق امریکہ میں زلزلے آئے ایسا ہی یورپ میں بھی آئے اور نیز ایشیا کے مختلف مقامات میں آئیں گے اور بعض اُن میں قیامت کا نمونہ ہوں گے اور اِس قدر موت ہوگی کہ خون کی نہریں چلیں گی۔اِس موت سے پرند چرند بھی باہر نہیں ہوں گے اور زمین پر اِس قدر سخت تباہی آئے گی کہ اس روز سے کہ انسان پَیدا ہوا ایسی تباہی کبھی نہیں آئی ہوگی اور اکثر مقامات زیر و زبر ہو جائیں گے کہ گویا اُن میں کبھی آبادی نہ تھی اور اُس کے ساتھ اَور بھی آفات زمین اور آسمان میں ہولناک صورت میں پیدا ہوں گی یہاں تک کہ ہر ایک عقلمند کی نظر میں وہ باتیں غیر معمولی ہوجائیں گی اور ہیئت اور فلسفہ کی کتابوں کے کسی صفحہ میں اُن کا پتہ نہیں ملے گا۔تب انسانوں میں اضطراب پیدا ہوگا کہ یہ کیا ہونے والا ہے اور بہتیرے نجات پائیں گے اور بہتیرے ہلاک ہوجائیں گے۔وہ دن نزدیک ہیں بلکہ مَیں دیکھتا ہوں کہ دروازے پر ہیں کہ دنیا ایک قیامت کا نظارہ دیکھے گی اور نہ صرف زلزلے بلکہ اَور بھی ڈرانے والی آفتیں ظاہر ہوں گی۔کچھ آسمان سے اور کچھ زمین سے۔یہ اِس لئے کہ نوعِ انسان نے اپنے خدا کی پرستش چھوڑ دی ہے اور تمام دل اور تمام ہمّت اور تمام خیالات سے دنیا پر ہی گِر گئے ہیں۔اگر مَیں نہ آیا ہوتا تو ان بَلاؤں میں کچھ تاخیر ہوجاتی پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو ایک بڑی مدّت سے مخفی تھے ظاہر ہوگئے …یہ مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک اُن سے محفوظ ہے۔مَیں تو دیکھتا ہوں کہ شاید اُن سے زیادہ مصیبت کا منہ دیکھو گے۔اے یورپ تُو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تُو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو ! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔مَیں شہروں کو گِرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۲۶۸ ، ۲۶۹)