تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 477 of 1089

تذکرہ — Page 477

۲۲ ؍اپریل۱۹۰۴ء ’’۔اِنَّ اللّٰہَ حَافِظُ کُلِّ شَیْءٍ۔اُذْکُرْ عَلَیْکَ نِعْمَتِیْ غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْـمَتِیْ وَ قُدْرَتِیْ ‘‘ ؎۱ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۸) ۲۸؍ اپریل۱۹۰۴ء (الف)’’۱۔اِعْـمَلُوْا؎۲ مَا شِئْتُمْ۔۲۔اِنِّیْ غَـفَرْتُ لَکُمْ۔۳۔اِنْ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ۔بقیہ حاشیہ۔تجلّیات ِ جمالی و جلالی کا اتم مظہر عرش ہے اور مسیح موعود اتم مظہر صفات ِ جمالیہ کا ہے جو کہ اِس وقت ظاہر ہورہی ہیں اور اِس لئے کل انبیاء کے ناموں سے مجھے خطاب کیا گیا ہے تاکہ اُن کے کل صفات کا مظہرِ تام مَیں ہوجاؤں۔خدا تعالیٰ کی صفات مُـحْیِی وَ مُـمِیْت برابر کام میں زور سے لگی ہوئی ہیں۔ایک طرف تو لوگ زندہ ہورہے ہیں اور ایک طرف مَررہے ہیں۔پس چونکہ ان ایام میں خدا کی صفات اپنی پوری تجلی سے کام کررہی ہیں اس مناسبت کے لحاظ سے عرش کہا گیا ہے۔‘‘ (البدر مورخہ ۲۴؍ اپریل و یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحہ۸) ۱ (ترجمہ از مرتّب) یقیناً اللہ ہر چیز کی حفاظت کرتا ہے۔یاد کر میری نعمت کو جو تجھ پر کی۔مَیں نے تیرے لئے اپنے ہاتھ سے اپنی رحمت اور اپنی قدرت کا درخت لگایا۔(نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۲۴؍اپریل و یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۸ اور الحکم پرچہ غیر معمولی مورخہ ۲۸؍اپریل ۱۹۰۴ء حاشیہ میں الہام ’’ اُذْکُرْ نِعْمَتِیْ۔غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْـمَتِیْ وَ قُدْرَتِیْ‘‘ کو مورخہ ۲۸؍اپریل ۱۹۰۴ء کے تحت دیا ہے اور اُذْکُرْ کے بعد عَلَیْکَ کا لفظ نہیں۔(نوٹ از مرتّب) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک انگوٹھی جو حضور ؑ کی وفات کے بعد قرعہ اندازی کے ذریعہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ؓ کے حصّہ میں آئی تھی اس میں یہ عبارت کندہ ہے اُذْکُرْ نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکَ غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْـمَتِیْ وَ قُدْرَتِیْ اور تاریخ ۱۳۰۱ ہجری درج ہے۔اس انگوٹھی کا عکس یہ ہے۔ممکن ہے کہ یہ الہام نیا ہو یا ان ۲دو الہاموں کو جو کے صفحہ ۸۰ وصفحہ ۸۳ میں آچکے ہیں انگوٹھی میں کندہ کرادیا ہو۔۲ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔کرو جو چاہو۔۲۔مَیں نے تمہیں گناہوں سے محفوظ کرلیا ہے۔۳۔انشاء اللہ تم محفوظ ہو۔