تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 476 of 1089

تذکرہ — Page 476

۲۔’’در ایّامِ مقدمہ جہلم۔رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُـرْنِیْ وَارْحَـمْنِیْ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۶) (ترجمہ) ’’اے میرے خدا ہر ایک چیز تیری خادم ہے۔اے میرے خدا شریر کی شرارت سے مجھے نگہ رکھ۔اور میری مدد کر اور مجھ پر رحم کر۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۱) ۱۹۰۴ء ’’رؤیا۔ایک عورت قرآن پڑھ رہی تھی۔اس سے اپنی جماعت کی نسبت تفاؤل کی نیت سے پوچھا کہ پہلی سطر پر اوّل کیا لفظ ہے تو اس نے کہا کہ غَفُوْرٌ الرَّحِیْمُ مَیں نے سمجھا کہ یہ جماعت کے لئےہے۔‘‘ (البدر؎۱ جلد ۳ نمبر ۱۶، ۱۷مورخہ ۲۴؍ اپریل و یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۶) ۲۱ ؍ اپریل۱۹۰۴ء ’’ اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ عَرْشِیْ۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْـخَلْقُ۔‘‘ ؎۲ (کاپی الہامات۳؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۶) بقیہ حاشیہ۔جو ایک سال ہوا بیت الدّ۔عا پر لکھی ہوئی ہے اور وہ دعا یہ ہے یَـا رَبِّ فَاسْـمَعْ دُعَآئِیْ وَمَزِّقْ اَعْدَآءَکَ وَاَعْدَآئِیْ وَ اَنْـجِزْ وَعْدَ کَ وَ انْصُـرْعَبْدَ کَ وَ اَرِنَـا اَیَّـامَکَ وَ شَھِّرْلَنَا حُسَامَکَ وَ لَا تَذَ رْ مِنَ الْکَافِرِیْنَ شَـرِیْـرًا۔؎۴ اِس دعا کو دیکھنے اور اس الہام کے ہونے سے معلوم ہوا کہ یہ میری دعا کی قبولیت کا وقت ہے۔پھر فرمایا کہ ہمیشہ سے سنت اللہ اسی طرح پر چلی آتی ہے کہ اس کے ماموروں کی راہ میں جو لوگ روک ہوتے ہیں اُن کو ہٹادیا کرتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے بڑے فضل کے دن ہیں۔ان کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان اور یقین بڑھتا ہے کہ وہ کس طرح ان اُمور کو ظاہر کررہا ہے۔‘‘ (الحکم مورخہ ۲۴ ؍اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۱) ۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۱ پر یہ رؤیا ان الفاظ میں درج ہے۔’’ایک عورت قرآن پڑھنے لگی ہے میں نے اُس سے کہا کہ صفحہ کا پہلا لفظ کھول کر بتاؤ میں اس سے تفاؤل لینا چاہتا ہوں۔اُس نے قرآن شریف کھولا تو صفحہ کے سر پر لکھا ہوا تھا غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ۔فرمایا یہ بشارت ہے۔‘‘ ۲ (ترجمہ از مرتّب) تُو میرے نزدیک بمنزلہ میرے عرش۵؎ کے ہے۔تو میرے نزدیک وہ مقام رکھتا ہے جس سے تمام مخلوق ناواقف ہے۔۳ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۲۴؍ اپریل و یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحہ۸ اور الحکم مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۱ میں یہ الہامات باختلافِ ترتیب و تاریخ درج ہیں۔۴ (ترجمہ از مرتّب) اے میرے ربّ! تو میری دعا سن اور اپنے دشمنوں اور میرے دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردے اور اپنا وعدہ پورا فرما اور اپنے بندے کی مدد فرما اور ہمیں اپنے دن دکھا اور ہمارے لئے اپنی تلوار سونت لے اور انکار کرنے والوں میں سے کسی شریر کو باقی نہ رکھ۔۵ (نوٹ از البدر) ’’ عرش پر آپؑ نے فرمایا کہ یہ لفظ اِس لئے بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی