تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 446 of 1089

تذکرہ — Page 446

۲۸؍ جولائی۱۹۰۳ء ’’ مَیں نے دیکھا کہ مَیں ایک پہاڑ پر ہوں اور میرے ساتھ کئی آدمی ہیں اور ہم مِدّل جو ایک قسم کا اناج ہوتا ہے اس کے دانے کھارہے ہیں اور زمین پر جب نظر کی تو بہت سے ڈیلے زمین پر پڑے ہیں۔پھر مَیں وہاں سے اُٹھا اور ایک کنارہ پر گیا تو مجھے اندیشہ ہوا کہ اس کے کنارہ پر صدہا ہاتھ کا گڑھا ہے جس گڑھے سے خدا نے مجھ کو بچالیا اور پھر دوسری طرف مَیں آیا توسطح مستوی نہیں بلکہ ایک طرف سے بہت اُونچا اور دوسری طرف سے بہت نیچا ہے جس سے انسان بے اختیار پھسل سکتا ہے مگر خدا نے مجھے اس سے بچالیا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۳) ۲۹؍ جولائی۱۹۰۳ء ’’ یَنْقَطِعُ اٰبَآءُکَ وَ یُبْدَ ءُ مِنْکَ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۲) (ترجمہ) تیرے باپ دادے کا ذکر منقطع ہو جائے گا اور تیرے بعد سلسلہ خاندان کا تجھ سے شروع ہوگا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۹) ۲۹؍ جولائی۱۹۰۳ء ’’۔سَعٰی لَھَا سَعْیَـھَا‘‘ ؎۱ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۲) ۳۰؍ جولائی۱۹۰۳ء ’’الہام کسی کی نسبت یعنی حِکَایَۃً عَنِ الْغَیر کَـذَ۔بْـتَ۔‘‘ ؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۳) ۱۹۰۳ء ’’ایک دن یہ ذکر آگیا کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں اور بہشت کے آٹھ ہیں تو مجھے خیال گزرا کہ ایک دروازہ بہشت کا کیوں زیادہ ہے۔اس پر معاً خدا تعالیٰ نے دل میں ڈالا کہ ’’جرائم کے اصول بھی سات ہیں اور محاسن کے بھی سات۔مگر ایک دروازہ رحمتِ الٰہی کا ہے جو کہ بہشت کے دروازوں میں زیادہ ہے۔‘‘ (البدر جلد۲ نمبر۲۹ مورخہ۷ ؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۲۲۷) ۱۱ ؍اگست۱۹۰۳ء الہام۔’’اِنِّیْ اَرَی الرَّحْـمٰنَ حَلَّ غَضَبُہٗ عَلَی الْاَرْضِ۔‘‘ ؎۳ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۵) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اس نے اس کے لئے بڑی کوشش کی۔۲ (ترجمہ از مرتّب) تونے جھوٹ بولا۔۳ اس کی تشریح حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ فرمائی ہے کہ ’’مَیں رحمٰن کو دیکھتا ہوں (یعنی) اگرچہ خدا رحمٰن ہے مگر گناہ حد سے بڑھ گیا ہے جس سے اس کا غضب نازل ہوگیا ہے۔‘‘ (البدر مورخہ۲۸؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۲۵۳ و الحکم مورخہ۲۴ ؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۶)