تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 441 of 1089

تذکرہ — Page 441

۱۴؍ مئی۱۹۰۳ء الہام۔’’سرانجامِ جاہل جہنّم بود کہ جاہل نکو عاقبت کم بود‘‘؎۱ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۸۔بدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۷ ؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ ) ۱۵؍ مئی۱۹۰۳ء الہام۔’’کسی کی طرف سے کلام ہے۔ہمارے دوست چل دیئے اور ہم بھی۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۸) ۱۸؍ مئی۱۹۰۳ء ’’پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص میرے پاس بیان کرتا ہے کہ تمہاری فلاں فتح ہوئی ، فلاں فتح ہوئی، فلاں فتح ہوئی۔بعد اس کے الہام ہوا۔مجموعہء ِ فتوحات۔‘‘ (کاپی الہامات۲؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۸) ۲۷ ؍مئی۱۹۰۳ء ’’خواب میں اوّل دیکھا کہ ایک چوغہ سیاہ رنگ مجھ کو دیا گیا ہے اور اس کے لوہے کے بٹن میرے ہاتھ میں ہیں اور پھر مَیں نے اس کے جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس میں سے ایک پرچہ نکلا۔اس میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی۔بَلا نازل یا حادث۔یا … اور مَیں نے خواب میں اپنی بیوی کے پاس یہ ذکر کیا کہ اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ بَلا نازل یا حادث۔یا… اور ۲دو پرچہ اَور تھے ان کا مضمون یاد نہیں۔‘‘ (کاپی الہامات۳؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۸) ۳۱؍ مئی۱۹۰۳ء ’’آج خواب میں مَیں نے دیکھا کہ ایک جگہ مَیں اپنی جوتی بھول گیا ہوں۔پھر مجھے یاد آیا تو مَیں اسی جگہ گیا تو معلوم ہوا کہ جوتی اس جگہ نہیں کوئی اُٹھا کر لے گیا اور اس جگہ بجائے جوتی کے بہت سے چنے یعنی نخود پڑے ہیں۔پھر مجھے الہام ہوا۔مشکل کشا کے ہوگئے مشکل تمام کام۔۱ (ترجمہ از مرتّب) جاہل کا انجام جہنم ہے۔جاہل کا خاتمہ بالخیر کم ہوتا ہے۔۲ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۲۹؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴۷ میں اس الہام کے بارہ میں تحریر ہے ’’فرمایا بارہ بجے کے قریب میں نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ کوئی کہتا ہے کہ یہ فتح ہوگئی۔بار بار اسے تکرار کرتا ہے گویا کہ بہت سے فتوحات کی طرف اشارہ ہے۔اس کے بعد طبیعت وحی کی طرف منتقل ہوئی اور الہام ہوا۔مجموعہ ء فتوحات۔‘‘ ۳ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۵؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۴ میں اس رؤیا و الہام کے الفاظ یوں ہیں۔’’فرمایا۔یہ الفاظ الہام… ہوئے ہیں مگر معلوم نہیں کہ کس کی طرف اشارہ ہے۔بَلا نازل یا حادث یا … یاد نہیں رہا کہ’’یا‘‘ کے آگے کیا تھا۔رؤیاکا معاملہ بھی عجیب ہے۔پیچ در پیچ بات ہوتی ہے اور الگ الگ رنگ ہوتا ہے۔صحابہ کرامؓ کی شہادت کو آنحضرت ؐ نے گائیوں کے ذبح ہونے کے رنگ میں دیکھا حالانکہ خدا اِس بات پر قادر تھا کہ خواب میں خاص صحابہ ہی کو دکھلادیتا۔‘‘