تذکرہ — Page 22
یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضاء و قدر کا مبدء ہے اور قسم ہے اُس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہوگا۔اور مجھے سمجھا یا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پُرسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہوجائے گا…… اور میرے والد صاحب اسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہوگئے۔‘‘ ؎۱ (کتاب البریّہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۹۲تا۱۹۵حاشیہ) جون ۱۸۷۶ء ’’جب مجھے حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کی نسبت اللہ جل شانہٗ کی طرف سے یہ الہام ہوا جو میں نے ابھی ذکر کیا ہے تو بشریت کی و جہ سے مجھے خیال آیا کہ بعض وجوہ آمدن حضرت والد صاحب کی زندگی سے وابستہ ہیں پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلاء ہمیں پیش آئے گا۔تب اُسی وقت یہ دوسرا الہام ہوا۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَا فٍ عَبْدَہٗ یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے اور اس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا اور فولادی میخ کی طرح میرے دل میں دھنس گیا۔پس مجھے اُس خدا ئے عزّوجلّ کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے اس مبشّرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کرکے دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا۔میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز ایسا متکفّل نہیں ہوگا۔‘‘ (کتاب البریّہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۹۴، ۱۹۵ حاشیہ) ۱۸۷۶ء ’’بعض اوقات خواب یاکشف میں روحانی امور جسمانی شکل پر متشکل ہوکر مثل انسان نظر آجاتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد صاحب غَفَرَ اللہُ لَہٗ جو ایک معزز رئیس اور اپنی نواح میں عزت کے ساتھ مشہور تھے انتقال کرگئے تو اُن کے فوت ہونے کے بعد دوسرے یا تیسرے روز ایک عورت نہایت خوبصورت خواب میں مَیں نے دیکھی جس کا حُلیہ ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے اور اُس نے بیان کیا کہ میرا نام راؔنی ہے اور مجھے اشارات سے کہا کہ میں اس گھر کی عزت اور وجاہت ہوں اور کہا کہ میں چلنے کو تھی مگر تیرے لئے رہ گئی۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۲۰۵، ۲۰۶)؎۲ فرمایا ’’رؤیا میں عورت سے مراد اقبال اور فتح مندی اور تائید ِ الٰہی ہوتی ہے۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مؤرخہ۱۴؍جون۱۹۰۶ ء صفحہ۲ کالم نمبر ۳) ۱ (نوٹ از سیّد عبد الحی) حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کی وفات ۳ ؍جون ۱۸۷۶ء کو ہوئی تھی۔۲ دیکھئے الحکم مورخہ ۱۰ ؍جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲۔(عبد اللطیف بہاولپوری)