تذکرہ — Page 435
مارچ۱۹۰۳ء ’’ مَیں نے بعض بیماریوں میں آزمایا ہے اور دیکھا ہے کہ محض دعا سے اس کا فضل ہوا اور مرض جاتا رہا ہے۔ابھی دوچار دن ہوئے ہیں کثرتِ پیشاب اور اسہال کی و جہ سے مَیں مضمحل ہوگیا تھا۔مَیں نے دعا کی تو الہام ہوا۔دُعَآءُکَ مُسْتَجَابٌ ؎۱ اس کے بعد ہی دیکھا کہ وہ شکایت جاتی رہی۔خدا ایک ایسا نسخہ ہے جو سارے نسخوں سے بہتر ہے اور چُھپانے کے قابل ہے۔مگر پھر دیکھتا ہوں کہ یہ بخل ہے اِس لئے ظاہر کرنا پڑتا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶) ۱۶ ؍ مارچ۱۹۰۳ء ’’ ایک خاص جماعت کے شخص کی نسبت جو معلوم ہے خواب میں معلوم ہوا یعنی خواب میں کہ گھوڑے سے گر پڑا۔پھر اس کی تشریح میں معلوم ہوا کہ استقامت میں فرق آگیا۔‘‘؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۷) ۱۹؍مارچ۱۹۰۳ء ’’فرمایا کہ آج مَیں نے ایک خواب دیکھا جیسے آنکھ کے آگے ایک نظارہ گزر جاتا ہے۔دیکھتا ہوں کہ دو سنڈھوں کے سر جسم سے الگ کئے ہوئے ہاتھوں میں ہیں۔ایک ایک ہاتھ میں اور دوسرا دوسرے ہاتھ میں۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر۱۱ مورخہ ۳؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۱) ۲۶؍ مارچ۱۹۰۳ء ’’فرمایا۔آج میری طبیعت علیل تھی اِس لئے میری آنکھ لگ گئی۔جب اُٹھا تو یہ الفاظ زبان پر جاری تھے یا سنائی دیئے۔طاعون کا دروازہ کھولا گیا۔معلوم ہوتا ہے کہ طاعون اب پیچھا نہیں چھوڑتی۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر۱۰ مورخہ ۲۷؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۸۰) ۱۹۰۳ء ۱ (ترجمہ از مرتّب) تمہاری دعا مقبول ہے۔۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔’’رات کو مَیں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اپنی جماعت میں سے گھوڑے پر سے گر پڑا۔پھر آنکھ کھل گئی۔سوچتا رہا کہ کیا تعبیر کریں۔قیاسی طور پر جو بات اقرب ہووے لگائی جاسکتی ہے کہ اس اثناء میں غنودگی غالب ہوئی اور الہام ہوا۔استقامت میں فرق آگیا ایک صاحب نے کہا کہ وہ کون شخص ہے ؟ حضرت نے فرمایا کہ معلوم تو ہے مگر جب تک خدا کا اِذن نہ ہو مَیں بتلایا نہیں کرتا۔میرا کام دعا کرنا ہے۔‘‘ (البدر مورخہ ۲۷؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۵)