تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 1089

تذکرہ — Page 407

چرا؎۱غ کا لانا، یہ سب مبشرات ہیں۔لِنَجْعَلَہٗ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ سے مراد یہ ہے کہ یہ وعدہ حفاظت جو ہے اس حفظ کو لوگوں کے لئے ایک نشان ٹھہراؤں گا۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اب کھلے کھلے طور پر کچھ کرنا چاہتا ہے۔جیسے اِنَّـا تَـجَالَدْ۔نَـا میں ہوا تھا۔اس وقت ایک قوم تمنّا کے ساتھ ٹیکا کرارہی ہے اور ہم اس نشان کے ساتھ ناز کرتے ہیں۔‘‘ ( الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۰) ۱۸؍ اکتوبر۱۹۰۲ء ’’اِس الہام کے ساتھ ایک اردو الہام بھی تھا مگر وہ بہت لمبا تھا یاد نہیں رہا اس کا خلاصہ اور مغز یاد رہا ہے کہ ایمان کے ساتھ نجات ہے۔‘‘ ( الحکم۲؎ جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۰) ۱۸؍ اکتوبر۱۹۰۲ء ’’ فرمایا کہ رات کو مجھے ایک اَور فقرہ الہام ہوا تھا، بھول گیا تھا اَب یاد آیا ہے وہ یہ ہے۔اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْا اَنْ۳؎ یَّقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَ ھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ۔‘‘ (البدر جلد ۱ نمبر۱ مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۷ ) ترجمہ۔کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بے امتحان کئے صرف زبانی ایمان کے دعویٰ سے چھوٹ جاویں گے۔(براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ۶۰۸) ۱۹؍ اکتوبر۱۹۰۲ء ’’ یُرِیْدُ۔وْنَ اَن یُّطْفِئُوْا نُـوْرَکَ۔یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفُوْا عِرْضَکَ۔اِنِّیْ مَعَکَ وَ مَعَ اَھْلِکَ‘‘؎۴ (بدر جلد ۱ نمبر۲ مورخہ ۷؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۰ ) ۲۰؍اکتوبر۱۹۰۲ء ’’ رات تین بجے کے قریب مجھے الہام ہوا۔۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) چرؔاغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ملازم تھے۔بعد میں مدرسہ احمدیہ میں چپڑاسی ہوتے تھے۔ریٹائرہوکر ربوہ دارالہجرت میں وفات پائی۔۲ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۵ میں درج ہے کہ ’’ یہ بھی الہام ہوا مگر اصل لفظ یاد نہیں کہ ایمان کے ساتھ نجات ہے۔‘‘ ۳ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۱ پر اس الہام میں اَنْ یَّقُوْلُوْا کی بجائے وَیَقُوْلُوْا کے الفاظ درج ہیں۔۴ (ترجمہ از مرتّب) دشمن ارادہ کریں گے کہ تیرے نور کو بجھادیں۔وہ تیری ہتک عزت کرنا چاہیں گے مگر مَیں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں گا۔(نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) الحکم مورخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱ میں ’’۔یُرِیْدُ۔وْنَ اَنْ یَّـتَـخَـطَّفُوْا عِرْضَکَ‘‘ کی بجائے اس کی یہ قراءت بیان ہوئی ہے۔’’ وَ اَنْ یَّــتَـخَـطَّفُوْا عِـرْضَکَ۔‘‘