تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 1089

تذکرہ — Page 16

یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے۔یہ اُس زمانہ کی خواب ہے جبکہ مَیں نہ کوئی شہرت اور نہ کوئی دعویٰ رکھتا تھا اور نہ میرے ساتھ درویشوں کی کوئی جماعت تھی مگر اب میرے ساتھ بہت سی وہ جماعت ہے جنہوں نے خود دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر اپنے تئیں درویش بنادیا ہے اور اپنے وطنوں سے ہجرت کرکے اور اپنے قدیم دوستوں اور اقارب سے علیحدہ ہوکر ہمیشہ کے لئے میری ہمسائیگی میںآ آباد ہوئے ہیں۔اور نان سے میں نے یہ تعبیر کی تھی کہ خدا ہمارا اور ہماری جماعت کا آپ متکفّل ہوگا اور رزق کی پریشانگی ہم کو پراگندہ نہیں کرے گی۔چنانچہ سالہائے دراز سے ایسا ہی ظہور میں آرہا ہے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۸۴، ۵۸۵) ۱۸۷۴ء (قریباً) ’’ مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ ایک بڑی لمبی نالی ہے کہ جو کئی کوس تک چلی جاتی ہے اور اُس نالی پر ہزار ہا بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں اس طرح پر کہ بھیڑوں کا سر نالی کے کنارہ پر ہے۔اِس غرض سے کہ تا ذبح کرنے کے وقت اُن کا خون نالی میں پڑے اور باقی حصّہ اُن کے وجود کا نالی سے باہر ہے اور نالی شرقاً غرباً واقع ہے اور بھیڑوں کے سر نالی پر جنوب کی طرف سے رکھے گئے ہیں اور ہر ایک بھیڑ پر ایک قصاب بیٹھا ہے اور اُن تمام قصابوں کے ہاتھ میں ایک ایک چھری ہے جوہر ایک بھیڑ کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف اُن کی نظر ہے۔گویا خدا تعالیٰ کی اجازت کے منتظر ہیں اور مَیں اُس میدان میں شمالی طرف پھر رہا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو دراصل فرشتے ہیں بھیڑوں کے ذبح کرنے کے لئے مستعد بیٹھے ہیں۔محض آسمانی اجازت کی انتظار ہے تب میں ان کے نزدیک گیا اور میں نے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی۔قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآ ؤُکُمْ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پروا کیا رکھتا ہے اگر تم اس کی پرستش نہ کرو اور اس کے حکموں کو نہ سنو۔اور میرا یہ کہنا ہی تھا کہ فرشتوں نے سمجھ لیا کہ ہمیں اجازت ہوگئی۔گویا میرے منہ کے لفظ خدا کے لفظ؎ ۱ تھے۔تب فرشتوں نے جو قصابوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے فی الفور اپنی بھیڑوں پر چھریئیں پھیر دیں اور ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔’’معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ خلیفہ جو ہوتا ہے وہ آسمان سے ہوتا ہے اس لئے میں نے جو آواز دی تو انہوں نے سمجھا کہ حکم ہوگیا اور جو آواز آسمان سے آنی تھی وہ میں نے کہی۔‘‘ (البدر مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۹۰)