تذکرہ — Page 305
اس وقت جو مَیں یہی مقام لکھ رہا تھا، الہام ہوا اور آج دوسری ستمبر ۱۸۹۹ء روز شنبہ اور ایک بجے کا عمل، وقت نماز ظہر ہے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۲۶۲ حاشیہ) ۱۴؍ ستمبر ۱۸۹۹ء ’’۱۴؍ستمبر ۱۸۹۹ء کو یہ الہام ہوا۔ایک عزت؎۱ کا خطاب۔ایک عزت کا خطاب۔لَکَ خِطَابُ الْعِزَّۃِ۔ایک بڑا نشان اس کے ساتھ ہوگا۔یہ تمام خدائے پاک قدیر کا کلام ہے…مَیں اپنے اجتہاد سے اس کے یہ معنے سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس جھگڑے کے فیصلہ کرنے کے لئے جو کسی حد تک پُرانا ہوگیا ہے اور حد سے زیادہ تکذیب اور تکفیر ہوچکی ہے۔کوئی ایسا برکت اور رحمت اور فضل اور صلح کاری کا نشان ظاہر کرے گا کہ وہ انسانی ہاتھوں سے برتر اور پاک تر ہوگا۔تب ایسی کھلی کھلی سچائی کو دیکھ کر لوگوں کے خیالات میں ایک تبدیلی واقع ہوگی اور نیک طینت آدمیوں کے کینے یک دفعہ رفع ہوجائیں گے۔‘‘ (ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ۴۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۵۰۱ تا ۵۰۴) ۱۸؍ستمبر ۱۸۹۹ء ’’ آج مَیں نے ۱۸؍ستمبر ۱۸۹۹ء کو بروز دوشنبہ خواب میں دیکھا کہ بارش ہورہی ہے۔آہستہ آہستہ مینہ برس رہا ہے۔مَیں نے شاید خواب میں یہ کہا کہ ہم تو ابھی دُعا کرنے کو تھے کہ بارش ہو، سو ہو ہی گئی۔مَیں نہیں جانتا کہ عنقریب بارش ہوجائے یا ہمارے الہام ۱۳؍ستمبر؎۲ ۱۸۹۹ء ’’ایک عزت کا خطاب۔ایک عزت کا خطاب۔لَکَ خِطَابُ الْعِزَّۃِ۔ایک بڑا نشان اس کے ساتھ ہوگا‘‘ کے متعلق خدا کی رحمت اور فتح و نصرت کی بارش ہماری جماعت پر ہوگی یا دونو ہی ہوجاویں۔ہماری خواب سچی ہے۔اس کا ظہور ضرور ہوگا۔دونو میں سے ایک بات ضرور ہوگی یعنی یا تو خدا تعالیٰ کی مخلوق کے لئے بارانِ رحمت کا دروازہ آسمان سے کھلے گا یا غیر معمولی کوئی نشان روحانی فتح اور نصرت کا ظاہر ہوگا مگر نشان ہوگا نہ معمولی بات۔‘‘ (الحکم جلد ۳نمبر ۳۶ مورخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۸۹۹ء صفحہ ۷) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’مجھے امتیازی مرتبہ بخشنے کے لئے خدا نے میرا نام نبی رکھ دیا ہے اور مجھے یہ ایک عزت کا خطاب دیا گیا ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام ایڈیٹر صاحب اخبار عام۔مکتوبات احمد جلد ۵صفحہ ۵۴۴ مطبوعہ ۲۰۱۵ء) ۲ (نوٹ از ناشر) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس الہام کی تاریخ نزول تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۵۰۱ میں ۱۴؍ستمبر ۱۸۹۹ء تحریر فرمائی ہے۔