تذکرہ — Page 304
لَوْ؎۱ لَا فَضْلُ اللّٰہِ وَ رَحْـمَتُہٗ عَلَیَّ لَاُلْقِیَ رَاْسِیْ فِیْ ھٰذَا الْکَنِیْفِ۔‘‘؎۲ (از خط مولانا عبدالکریم صاحب ؓ مندرجہ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۸۹۹ء صفحہ ۴) ۲۷؍ اگست ۱۸۹۹ء ’’ مجھ کو اپنی نسبت یہ الہام ہوا۔’’خدا نے ارادہ کیا ہے کہ تیرا نام بڑھاوے اور آفاق میں تیرے نام کی خوب چمک دکھاوے۔آسمان سے کئی تخت اُترے مگر سب سے اونچا تیرا تخت بچھایا گیا۔دشمنوں سے ملاقات کرتے وقت ملائکہ؎۳ نے تیری مدد کی۔‘‘ (از مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمٰن صاحبؓ مدراسی۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۴۰۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۳۰؍ اگست ۱۸۹۹ء ’’ ۳۰؍اگست کو خدا نے اپنے برگزیدہ کو یوں بشارت دی ہے۔رحمت ِ الٰہی کے چُپکے سامان۔‘‘ (منقول از خط مولانا عبدالکریم صاحب ؓ مندرجہ الحکم جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخہ ۹؍ستمبر ۱۸۹۹ء صفحہ ۵) ۳۰؍ اگست ۱۸۹۹ء ’’ اِسی تاریخ کورؤیامیں حضرت اقدس نے نبض پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ اِس سے ذلّت کی آواز آتی ہے یا نصرت کی۔تو نبض سے نصرت کی آواز آئی۔‘‘ (خط مولوی عبدالکریم صاحب ؓ مندرجہ الحکم جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخہ ۹؍ستمبر ۱۸۹۹ء صفحہ ۵) ۲ ؍ستمبر۱۸۹۹ء ’’ اِس قدر فقرہ کہ رَبَّنَا اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاھِدِیْنَ۔۱ (ترجمہ) ’’اگر خدا کا فضل و رحمت مجھ پر نہ ہوتی تو میرا سر اس پاخانہ میں ڈالا جاتا۔یہ ایک انعامِ الٰہی کی طرز ہے کہ خدا نے آپ کو ایسے مکان کے لئے بنایا ہی نہیں اس سے پیشتر مدّت ہوئی حضرت کچھ لوگوں کو اس تاریک غار میں دیکھ چکے تھے۔‘‘ (از خط مولوی عبدالکریم صاحبؓ مندرجہ الحکم مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۸۹۹ء صفحہ ۴) ۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) احادیث نبویّہ میں دنیا کو ایک روڑی کی صورت میں بتایا گیا ہے پس وحی الٰہی ان احادیث کی تصدیق کرتی ہے اور معنے اس کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت نے ہی مجھے دنیا سے بے رغبت کیا ہے ورنہ مَیں بھی اِسی مزبلہ کا ایک کیڑا ہوتا۔۳ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) اربعین نمبر ۳ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۲۸ و ضمیمہ تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۷۵سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی الٰہی ’’ملائکہ نے تیری مدد کی‘‘ کی دوسری قراءت ’’فرشتوں نے تیری مدد کی‘‘ہے۔