تذکرہ — Page 271
نہیں کہ مَیں اُس کے ردّ میں تضیع اوقات کروں کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے جس کے ہاتھ میں حساب ہے لیکن ایک عجیب بات ہے جس کا اس وقت ذکر کرنا نہایت ضروری ہے اور وہ یہ کہ جب یہ اخبار چودھویں صدی میرے رُوبرو پڑھا گیا تو میری رُوح نے اس مقام میں بددُعا کے لئے حرکت کی جہاں لکھا ہے کہ ’’ ایک بزرگ نے جب یہ اشتہار (یعنی اس عاجز کا اشتہار) پڑھا تو بے ساختہ اُن کے منہ سے یہ شعر نکل گیا۔؎ چُوں خدا خواہد کہ پَردۂ کَس دَرَدْ میلش اندر طعنۂ پا کاں برد‘‘۱؎ مَیں نے ہر چند اس رُوحی حرکت کو روکا اور دبایا اور بار بار کوشش کی کہ یہ بات میری رُوح میں سے نکل جائے مگر وہ نہ نکل سکی۔تب مَیں نے سمجھا کہ وہ خدا کی طرف سے ہے تب مَیں نے اُس شخص کے بارے میں دُعا کی جس کو بزرگ کےلفظ سے اخبار میں لکھا گیا ہے اور مَیں جانتا ہوں کہ وہ دُعا قبول ہوگئی اور وہ دُعا یہ ہے کہ یا الٰہی اگر تُو جانتا ہے کہ مَیں کذ ّاب ہوں اور تیری طرف سے نہیں ہوں اور جیسا کہ میری نسبت کہا گیا ہے ملعون اور مردُود ہوں اور کاذب ہوں اور تجھ سے میرا تعلق اور تیرا مجھ سے نہیں تو مَیں تیری جناب میں عاجزانہ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ہلاک کر ڈال اور اگر تُو جانتا ہے کہ مَیں تیری طرف سے ہوں اور تیرا بھیجا ہوا ہوں اور مسیح موعود ہوں تو اُس شخص کے پَردے پھاڑ دے؎۲ جو بزرگ کے نام سے اس اخبار میں لکھا ۱ (ترجمہ از ناشر) خدا تعالیٰ جب کسی کا پردہ چاک کرنا چاہتاہے تو اس کی طبع میں پاک لوگوں پر طعنہ زنی کا میلان پیدا کردیتا ہے۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) اَلْـحَمْدُ لِلہ کہ یہ نشان بڑی آب و تاب سے پورا ہوگیا اور چودھویں صدی کے بزرگ نے بڑی عجز و انکساری سے معافی نامہ لکھا چنانچہ بزرگ صاحب لکھتے ہیں۔’’ سیدی و مولائی السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔ایک خطا کار اپنی غلط کاری سے اعتراف کرتا ہوا (اِس نیاز نامہ کے ذریعہ سے) قادیاؔن کے مبارک مقام پر (گویا) حاضر ہوکر آپ کے رحم کا خواستگار ہوتا ہے۔یکم جولائی ۹۷ء سے یکم جولائی ۹۸ء تک جو اس گنہ گار کو مہلت دی گئی اب آسمانی بادشاہت میں آپ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو مجرم قرار دیتا ہے(اِس موقعہ پر مجھے القا ہوا کہ جس طرح آپ کی دُعا مقبول ہوئی اسی طرح میری التجا و عاجزی قبول ہوکر حضرت اقدس کے حضور سے معافی و رہائی دی گئی)… اس وقت تو مَیں ایک مجرم گنہ گاروں کی طرح آپ کے حضور میں کھڑا ہوتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں (مجھ کو حاضر ہونے میں بھی کچھ عذر نہیں مگر بعض حالات میں ظاہر حاضری سے معاف کیا جانے کا مستحق ہوں) شاید جولائی ۱۸۹۸ء سے