تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 1089

تذکرہ — Page 170

اَرَدْتُّ۱؎ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ۔اِنَّـا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ وَکُنَّا کَذَالِکَ خَالِقِیْنَ۔وَ۲؎ اُلْقِیَ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّ اللّٰہَ اِذَا اَرَادَ اَنْ یَّـخْلُقَ اٰدَمَ فَیَخْلُـقُ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّـامٍ وَّ۔یَـخْلُقُ کُلَّ مَا لَا بُدَّ مِنْہُ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِیْنَ۔ثُمَّ فِیْ اٰخِرِالْیَوْمِ السَّادِ۔سِ یَـخْلُـقُ اٰدَمَ۔وَکَذَالِکَ جَرَتْ عَادَتُہٗ فِی الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ۔وَ اُلْقِیَ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّ ھٰذَا الْـخَلْقَ الَّذِیْ رَاَیْتُہٗ اِشَارَۃٌ اِلٰی تَائِیْدَاتٍ سَـمَاوِیَّۃٍ وَّ اَرْضِیَّۃٍ وَّجَعْلِ الْاَسْبَابِ مُوَافِقَۃً لِّلْمَطْلُوْبِ وَخَلْقِ کُلِّ فِطْرَۃٍ مُّنَاسِبَۃٍ مُّسْتَعِدَّۃٍ لِّـلَّحُوْقِ بِالصَّالِـحِیْنَ الطَّیِّبِیْنَ۔وَ اُلْقِیَ فِیْ بَالِیْ اَنَّ اللّٰہَ یُنَادِیْ کُلَّ فِطْرَۃٍ صَالِـحَۃٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَیَقُوْلُ کُـوْنِیْ عَلٰی عُدَّۃٍ لِّنُصْـرَۃِ عَبْدِیْ وَارْحَلُوْا اِلَیْہِ مُسَارِعِیْنَ۔وَرَاَیْتُ ذَالِکَ فِیْ رَبِیْعِ الثَّانِیْ سنہ ۱۳۰۹ھ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَصْدَقُ الْمُوْحِیْنَ۔وَ لَانَعْنِیْ بِـھٰذِہِ الْوَاقِعَۃِ کَمَا یُعْنٰی فِیْ کُتُبِ اَصْـحَابِ وَحْدَۃِ الْوُجُوْدِ وَ مَا نَعْنِیْ بِذَالِکَ مَاھُوَ مَذْھَبُ الْـحُلُوْلِیِّیْنَ۔بَلْ ھٰذِہِ الْوَاقِعَۃُ تُوَافِقُ حَدِیْثَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَعْنِیْ بِذَالِکَ حَدِیْثَ الْبُخَارِیِّ فِیْ بَیَانِ مَرْتَبَۃِ قُرْبِ النَّوَافِلِ لِعِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِـحِیْنَ۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۶۴ تا ۵۶۶) بقیہ ترجمہ۔جاری ہوا۔اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ اِنَّـا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔‘‘ (کتاب البریّہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۰۳ تا ۱۰۵) ۱ (ترجمہ از مرتب) مَیں نے ارادہ کیاکہ خلیفہ بناؤں تو مَیں نے آدم کو پیدا کیا۔یقیناً ہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے اور ہم اسی طرح پیدا کرنے والے ہیں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو چھ دنوں کے اندر آسمانوں اور زمین کو اور ان تمام چیزوں کو پیدا کرتا ہے جن کا آسمان یا زمین میں پایا جانا ضروری ہوتا ہے اور چھٹے دن کے اخیر میں آدم کو پیدا کرتا ہے اور یہی اس کی سنّتِ مستمرہ ہے۔اور یہ بات بھی میرے دل میں ڈالی گئی ہے کہ نئے آسمان اور زمین کا پیدا کیا جانا جو مَیں نے رؤیا میں دیکھا ہے اس میں تائیداتِ سماوی و ارضی کی طرف اور اصل مقصود کے مناسبِ حال اسباب پیدا کرنے اور ایسی فطرتوں کو وجود میں لانے کی طرف اشارہ ہے جو صالحین طیّبین میں شامل ہونے کی اہلیّت رکھتے ہوں۔نیز میرے دل میں ڈالا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک فطرتِ صالحہ کو آسمان سے حکم دیتا ہے کہ میرے بندے کی نصرت کے لئے تیار ہوجاؤ اور اس بندے کی طرف دوڑ کر آؤ۔اور یہ رؤیا مَیں نے ربیع الثانی ۱۳۰۹ھ میں دیکھی تھی۔پس سچی وحی کرنے والا اللہ بڑا برکت والا ہے۔اور اس سے مراد وحدت وجودی لوگوں والا عقیدہ یا حلولیوں والا عقیدہ نہیں بلکہ یہ واقعہ صحیح بخاری کی اس حدیث کے مطابق ہے جس میں نوافل کے ذریعہ سے اللہ کے صالح بندوں کو حاصل ہونے والے مرتبۂ قرب کا ذکر ہے۔