تذکرہ — Page 142
تھا بلکہ اُس کی موت اُن سب لوگوں کی زندگی کا موجب ہوگی جنہوں نے محض لِلّٰہ اُس کی موت سے غم کیا اور اُس ابتلا کی برداشت کرگئے کہ جو اُس کی موت سے ظہور میں آیا۔‘‘ (سبز اشتہار۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۶۲، ۴۶۳ حاشیہ) ۱۸۸۸ء ’’اس؎۲ موت کی تقریب پر بعض مسلمانوں کی نسبت یہ الہام ہوا۔اَحَسِبَ۳؎ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُــوْا اَنْ یَّقُوْلُـوْا اٰمَنَّا وَ ھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ۔قَالُوْا تَاللّٰہِ تَفْتَؤُا تَذْکُرُ یُوْسُفَ حَتّٰی تَکُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَکُوْنَ مِنَ الْھَالِکِیْنَ۔شَاھَتِ الْوُجُوْہُ فَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ۔اِنَّ الصَّابِرِیْنَ یُـوَفّٰی اَجْرُھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔اب خدا تعالیٰ نے اِن آیات میں صاف بتلادیا کہ بشیر کی موت لوگوں کی آزمائش کے لئے ایک ضروری امر تھا جو کچے تھے وہ مصلح موعود کے ملنے سے نومید ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ تُو اسی طرح اس یوسف کی باتیں ہی کرتا رہے گا یہاں تک کہ قریب المرگ ہوجائے گا یا مرجائے گا۔سو خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ ایسوں سے اپنا منہ پھیر لے جب تک وہ وقت پہنچ جائے اور بشیر کی موت پر جو ثابت قدم رہے اُن کے لئے بےاندازہ اجر کا وعدہ ہوا۔یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں اور کوتہ بینوں کی نظر میں حیرت ناک۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد۲ صفحہ ۷۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۸ء ’’ اِنَّ لِیْ کَانَ اِبْنًا صَغِیْرًا وَّکَانَ اسْـمُہٗ بَشِیْـرًا فَتَوَفَّاہُ اللّٰہُ فِیْ اَیَّامِ الرِّضَاعِ۔وَاللّٰہُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰثَـرُوْا سُبُلَ التَّقْوٰی وَالْاِرْتِیَاعِ فَاُلْھِمْتُ مِنْ رَّبِّیْ۔اِنَّـا نَـرُدُّہٗ اِلَیْکَ تَفَضُّلًا عَلَیْکَ۔‘‘۱؎ بقیہ حاشیہ۔اور بشیر اوّل کے لئے دین کے چراغ کا لفظ اُس کی ذاتی استعدادات کی بناء پر استعمال کیا گیا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے صاحبزادے ابراہیم کے متعلق فرماتے ہیں۔لَوْ عَاشَ اِبْـرَاھِیْمُ لَکَانَ صِدِّ یْقًا نَّبِیًّا۔یعنی اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو وہ ایسی استعداد رکھتا تھا کہ نبی ہوجاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء والے الہام کی تشریح اپنے یکم دسمبر ۱۸۸۸ء والے ’’سبز اشتہار‘‘ میں فرما دی ہے جس کا ذکر آگے آتا ہے۔۱ (ترجمہ از مرتّب) تجھ پر عرب کے صلحاء اور شام کے ابدال درود بھیجیں گے۔زمین و آسمان تجھ پر درود بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔۲ یعنی بشیر اوّل کی موت۔(مرزا بشیر احمد) ۳ (ترجمہ از ناشر) کیا لوگ یہ گمان کر بیٹھے ہیں کہ یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لے آئے وہ چھوڑ دیئے جائیں گے اور آزمائے نہیں جائیں گے۔انہوں نے کہا خدا کی قسم! تُو ہمیشہ یوسف ہی کا ذکر کرتا رہے گا یہاں تک کہ تُو (غم سے ) نڈھال ہوجائے یا ہلاک ہوجانے والوں میں سے ہوجائے۔چہرے بگڑ گئے۔پس تو ان سے کچھ عرصہ تک اعراض کر۔