تذکرہ — Page 122
جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الٰہی کےظہور کا موجب ہوگا۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسُوح کیا ہم اس میں اپنی رُوح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں؎۱ اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔وَ کَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔‘‘ (اشتہار ۲۰فروری۱۸۸۶ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۱۲۴،۱۲۵ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱۸۸۶ء ’’ پھر خدائے کریم جلّ شانہٗ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھربرکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور بقیہ حاشیہ۔زکی غلام تیری ہی صلب، ذریّت اور نسل سے دیا جائے گا، اور وہ ہمارےوجیہ بندوں میں سے ہوگا۔ایک خوبصورت مہمان ہماری طرف سے تیرے پاس آتا ہے۔وہ ہر میل کچیل، نقص، بدترین خصال، شرارت، عیب،عار اور گناہ سے پاک ہوگا اور پاکیزہ لوگوں میں سے ہوگا۔وہ کلمۃ اللہ ہے اور کلماتِ تمجید سے پیدا کیا جائے گا۔وہ ذہین وفہیم اور حسین ہوگا۔اس کا دل علم سے اور اس کا باطن حلم سے اور سینہ سلامتی سے پُر کیا جائے گا۔اسے مسیحی نفس دیا جائے گا اور وہ روح الامین سے برکت دیا جائے گا۔دوشنبہ تیرے کیا کہنے اے دوشنبہ تیرے اندر بابرکت روحیں آئیں گی۔۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشانِ آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جلّ شانہٗ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے اور درحقیقت یہ نشان ایک مُردہ کے زندہ کرنے سے صد ہا درجہ اعلیٰ و اولیٰ و اکمل و افضل و اَتم ہے کیونکہ مُردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جنابِ الٰہی میں دعا کرکے ایک رُوح واپس منگوایا جاوے اور ایسا مردہ زندہ کرنا حضرت مسیح اور بعض دیگر انبیاء علیہم السلام کی نسبت بائبل میں لکھا گیا ہے جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے… مگر اس جگہ بفضلہ تعالیٰ و احسانہ و بہ برکات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا کو قبول کرکے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔سو اگرچہ بظاہر یہ نشان احیاءِ موتیٰ کے برابر معلوم ہوتا ہے مگرغور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ نشان مُردوں کے زندہ کرنے سے صد ہا درجہ بہتر ہے۔مُردہ کی بھی رُوح ہی دعا سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعا سے ایک رُوح ہی منگائی گئی ہے مگر اُن رُوحوں اور اِس رُوح میں لاکھوں کوسوں کا فرق ہے۔‘‘ (اشتہار ۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء روز دوشنبہ۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۱۲۹،۱۳۰ مطبوعہ ۲۰۱۸ء)