تذکرہ — Page 104
بے وقت تقاضا سے بالفعل پچاس روپیہ کی سخت ضرورت تھی۔دُعا کے لئے یہ الہام ہوا۔بحسن قبولیء دعا بنگر کہ چہ زود دُعا قبُول میکنم۱؎ ۳؍جنوری۱۸۸۴ء کو یہ الہام ہوا۔۶ تاریخ کو آپ کا روپیہ آگیا۔وَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ۵۸۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (ب) ’’ایک دفعہ ہمیں اتفاقاً پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل فقر اور توکّل پر کبھی کبھی ایسی حالت گذرتی ہے اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا سو جب ہم صبح کے وقت سیر کے واسطے گئے تو اس ضرورت کے خیال نے ہم کویہ جوش دیا کہ اس جنگل میں دُعا کریں۔پس ہم نے ایک پوشیدہ جگہ میں جاکر اس نہر کے کنارہ پر دُعا کی جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی طرف واقع ہے۔جب ہم دُعا کرچکے تو دعا کے ساتھ ہی ایک الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے۔دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں تب ہم خوش ہوکر قادیان کی طرف واپس آئے اور بازار کا رُخ کیا تاکہ ڈاکخانہ سے دریافت کریں کہ آج ہمارے نام کچھ روپیہ آیا ہے یا نہیں چنانچہ ہمیں ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپیہ لدھیانہ سے کسی نے روانہ کئے ہیں اور غالباً وہ روپیہ اُسی دن یا دوسرے دن ہمیں مل گیا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۱۲) جنوری ۱۸۸۴ء ’’ایک رات خواب میں دیکھا کہ کسی مکان پر جو یاد نہیں رہا یہ عاجز موجود ہے اور بہت سے نئے نئے آدمی جن سے سابق تعارف نہیں ملنے کو آئے ہوئے ہیں اور آپ بھی ان کے ساتھ موجود ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اور مکان ہے۔اُن لوگوں نے اس عاجز میں کوئی بات دیکھی ہے جو ان کو ناگوار گذری ہے،سو اُن سب کے دل منقطع ہوگئے۔آپ نے اُس وقت مجھ کو کہاکہ وضع بدل لو۔میں نے کہا کہ نہیں۔بدعت ہے سو وہ لوگ بیزار ہوگئےاور ایک دوسرے مکان میں جو ساتھ ہے جاکر بیٹھ گئے۔تب شاید آپ بھی ساتھ ہیں میں ان کے پاس گیا تا اپنی امامت سے ان کو نماز پڑھاؤں۔پھر بھی انہوں نے بیزاری سے کہا کہ ہم نماز پڑھ چکے ہیں تب اس عاجز نے اُن سے علیحدہ ہونا اور کنارہ کرنا چاہا اور باہر نکلنے کے لئے قدم اُٹھایا معلوم ہوا کہ ان سب میں سے ایک شخص پیچھے چلا آتا ہے۔جب نظر اُٹھا کر دیکھا تو آپ ہی ہیں۔اب اگرچہ خوابوں میں تعینات معتبر نہیں ہوتے اور اگر خدا چاہے تو تقدیراتِ معلّقہ کو مبدّل بھی کردیتا ہے لیکن اندیشہ گذرتا ہے کہ خدانخواستہ وہ آپ ۱ (ترجمہ از ناشر) دعا کی قبولیت کی خوبی دیکھ کہ کیسے جلد میں دعا کوقبول کرتا ہوں۔