تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 1089

تذکرہ — Page 103

پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شبِ تاریک میں سفر کررہا تھا کہ ایک دفعہ پردۂ غیب سے اِنِّیْ اَنَـا رَبُّکَ۱؎ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔سو اب اس کتاب کا متولّی اور مہتمم ظاہراً وباطناً حضرت ربّ العالمین ہے۔‘‘ (ہم اور ہماری کتاب۔آخری صفحہ ٹائٹل براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۷۳) ۱۸۸۴ء فرمایا۔’’یہ میرا ایک پرانا الہام ہے۔’’ اَفَلَا یَتَدَبَّـرُوْنَ اَمْرَکَ۔وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِغَیْرِ اللّٰہ لَوَجَدُ وْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا۔‘‘؎۲ (البدر جلد۱ نمبر۵ مورخہ ۲۸؍نومبر۱۹۰۲ء صفحہ ۳۷) جنوری ۱۸۸۴ء ’’کچھ دن گذرے ہیں کہ اس عاجز کو ایک عجیب خواب آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مجمعِ زاہدین اور عابدین ہے اور ہر ایک شخص کھڑا ہو کر اپنے مشرب کا حال بیان کرتا ہے اور مشرب کے بیان کرنے کے وقت ایک شعر موزوں اُس کے منہ سے نکلتا ہے جس کا اخیر لفظ قعود اور سجود اور شہود وغیرہ آتا ہے۔جیسے یہ مصرع تمام شب گذرا نیم در قیام و سجود ۳؎ چند زاہدین اور عابدین نے ایسے ایسے شعر اپنی تعریف میں پڑھے ہیں۔پھر اخیر پر اس عاجز نے اپنے مناسب حال سمجھ کر ایک شعر پڑھنا چاہا ہے مگر اس وقت وہ خواب کی حالت جاتی رہی اور جو شعر اس خواب کی مجلس میں پڑھنا تھا وہ بطور الہام زبان پر جاری ہوگیا اور وہ یہ ہے ؎ طریقِ زہد و تعبّد ندا نم اے زاہد خدائے من قدمم راند بر رہِ داؤد‘‘؎۴ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ ۵۸۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۳؍جنوری ۱۸۸۴ء (الف) ’’آپ کے مبلغ پچاس روپیہ عین ضرورت کے وقت پہنچے۔بعض آدمیوں کے ۱ (ترجمہ از ناشر) یقیناً میں تیرا ربّ ہوں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) کیا یہ لوگ تیرے معاملہ میں غور نہیں کرتے اور اگر یہ معاملہ اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو اس میں وہ بہت اختلاف پاتے۔(نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) چونکہ البدر میں لکھا ہوا ہے کہ یہ پُرانا الہام براہین احمدیہ کے زمانہ کا ہے اس لئے اسے براہین کے بعد رکھا جاتا ہے۔۳ (ترجمہ از ناشر) ہم نے تمام رات قیام و سجود میں گزاری۔۴ (ترجمہ از مرتّب) اے زاہد ! میں تو کوئی زہد و تعبّد کا طریق نہیں جانتا۔میرے خدا نے خود ہی میرے قدم کو داؤد کے راستہ پر ڈال دیا ہے۔