تذکرہ — Page 96
۶؍ستمبر ۱۸۸۳ء ’’بتاریخ ۶ ؍ستمبر۱۸۸۳ء روز پنج شنبہ خداوند کریم نے عین ضرورت کے وقت میں اس عاجز کی تسلی کے لئے اپنے کلامِ مبارک کے ذریعہ سے یہ بشارت دی کہ بِست و یک روپیہ آنے والے ہیں۔کیونکہ اس بشارت میں ایک عجیب بات یہ تھی کہ آنے والے روپیہ کی تعداد سے اطلاع دی گئی اور کسی خاص تعداد سے مطلع کرنا ذاتِ غیب دان کا خاصہ ہے کسی اور کاکام نہیں ہے۔دوسری عجیب بر عجیب یہ بات تھی کہ یہ تعداد غیر معہود طرز پر تھی کیونکہ قیمت مقررہ کتاب سے اس تعداد کو کچھ تعلق نہیں۔پس انہیں عجائبات کی وجہ سے یہ الہام قبل از وقوع بعض آریوں کو بتلایا گیا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۲۴ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳) ۱۰؍ ستمبر ۱۸۸۳ء ’’پھر۱۰؍ستمبر ۱۸۸۳ء کو تاکیدی طور پر سہ۳ بارہ الہام ہوا کہ بست ویک روپیہ آئے ہیں جس الہام سے سمجھا گیا کہ آج اس پیش گوئی کا ظہور ہوجائے گا چنانچہ ابھی الہام پر شاید تین منٹ سے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گذرا ہوگا کہ ایک شخص وزیر سنگھ نامی بیمار دار آیا اور اُس نے آتے ہی ایک روپیہ نذر کیا۔ہر چند علاج معالجہ اِس عاجز کا پیشہ نہیں اور اگر اتفاقاً کوئی بیمار آجاوے تو اگر اُس کی دوا یاد ہو تو محض ثواب کی غرض سے لِلّٰہ فِی اللہ دی جاتی ہے لیکن وہ روپیہ اس سے لیا گیا کیونکہ فی الفور خیال آیا کہ یہ اُس پیش گوئی کی ایک جُز ہے۔پھر بعد اس کے ڈاک خانہ میں ایک اپنا معتبر بھیجا گیا اس خیال سے کہ شاید دوسری جُزبذریعہ ڈاک خانہ پوری ہو۔ڈاک خانہ سے ڈاک منشی نے جو ایک ہندو ہے جواب میں یہ کہا کہ میرے پاس صرف ایک منی آرڈر پانچ روپیہ کا جس کے ساتھ ایک کارڈ بھی نتھی ہے ڈیرہ غازیخان سے آیا ہے سو ابھی تک میرے پاس روپیہ موجود نہیں جب آئے گا تو دوں گا۔اس خبر کے سننے سے سخت حیرانی ہوئی اور وہ اضطراب پیش آیا جو بیان نہیں ہوسکتا۔چنانچہ یہ عاجز اسی تردّد میں سربزانو تھا اور اِس تصور میں تھا کہ پانچ۵ اور ایک۱ مل کرچھ۶ ہوئے، اب اکیس کیوں کر ہوں گے۔یا الٰہی یہ کیا ہوا۔سو اسی استغراق میں تھا کہ یک دفعہ یہ الہام ہوا۔بست ویک آئے ہیں۔اِس میں شک نہیں۔اس الہام پر دو۲ پہر نہیں گذرے ہوں گے کہ اسی روز ایک آریہ کہ جو ڈاک منشی کے پہلے بیان کی خبر سن چکا تھا ڈاک خانہ میں گیا اور اس کو ڈاک منشی نے کسی بات کی تقریب سے خبر دی کہ دراصل بست روپیہ آئے ہیں اور پہلے یوں ہی منہ سے نکل گیا تھاجو میں نے پانچ روپیہ کہہ دیا۔چنانچہ وہی آریہ بیس روپیہ معہ ایک کارڈ کے جو منشی الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ کی طرف سے تھالے آیا اور معلوم ہوا کہ وہ کارڈ بھی منی آرڈر کے کاغذ سے نتھی نہ تھا اور نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ روپیہ آیا ہوا تھا اور نیز منشی الٰہی بخش صاحب کی تحریر سے جو بحوالہ ڈاکخانہ کی رسید کے تھی یہ بھی معلوم ہوا کہ منی آرڈر ۶؍ستمبر ۱۸۸۳ء کو یعنی اُسی روز جب الہام ہوا قادیان میں پہنچ گیا تھا۔پس ڈاک منشی کا سارا املا، انشاء غلط نکلا اور حضرتِ عالم الغیب کا سارا بیان صحیح ثابت ہوا۔پس اس مبارک دن کی یاد داشت کے لئے ایک روپیہ کی شیرینی لے کر بعض آریوں کو بھی دی گئی۔فَالْـحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اٰلَآئِہٖ وَنُعَمَآئِہٖ ظَاھِرِھَا وَ بَاطِنِـھَا۔‘‘