تذکرہ — Page 80
کھول دے گا۔۳۰اے میرے خدا آسمان سے رحم اور مغفرت کر۔۳۱میں مغلوب ہوں میری طرف سے مقابلہ کر۔۳۲۔اے میرے خدا۔اے میرے خدا۔تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔آخری فقرہ اس الہام کا یعنی اِیْلِی اٰوس بباعث سُرعت ِورود مشتبہ رہا ہے اور نہ اس کے کچھ معنے کُھلے۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ………… ۳۴ یَا عَبْدَ الْقَادِرِ اِنِّیْ مَعَکَ اَسْـمَعُ وَاَرٰی۔۳۵ غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْـمَتِیْ وَ قُدْرَتِیْ۔۳۶۔وَنَـجَّیْنَاکَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنَّاکَ فُتُوْنًـا۔۳۷ لَیَأْتِیَنَّکُمْ مِنِّیْ ھُدًی۔۳۸ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغَالِبُوْنَ۔۳۹ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّ۔بَـھُمْ وَاَنْتَ فِیْـھِمْ۔۴۰۔وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّ۔بَـھَمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۔۳۴اے عبدالقادر میں تیرے ساتھ ہوں۔سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔۳۵تیرے لئے میں نے رحمت اور قدرت کو اپنے ہاتھ سے لگایا۔۳۶اور تجھ کو غم سے نجات دی اور تجھ کو خالص کیا۔۳۷اور تم کو میری طرف سے مدد آئے گی۔۳۸خبردار ہو لشکر خدا کا ہی غالب ہوتا ہے۔۳۹اور خدا ایسا نہیں جو اُن کو عذاب پہنچاوے جب تک تو اُن کے درمیان ہے ۴۰یا جب وہ استغفار کریں۔۴۱۔اَنَـا بُدُّ۔کَ اللَّازِمُ۔۴۲۔اَنَـا مُـحْیِیْکَ۔۴۳۔نَفَخْتُ فِیْکَ مِنْ لَّدُ۔نِّیْ رُوْحَ الصِّدْ۔قِ۔۴۴۔وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَـحَبَّۃً مِّنِّیْ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰی عَـیْــنِیْ ۴۵کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْأَہٗ فَاسْتَغْـلَـــظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ۔۴۱میں تیرا چارہ لازمی ہوں۔۴۲میں تیرا زندہ کرنے والا ہوں۔۴۳میں نے تجھ میں سچائی کی روح پھونکی ہے۔۴۴اور اپنی طرف سے تجھ میں محبت ڈال دی ہے تاکہ میرے روبرو تجھ سے نیکی کی جائے۔۴۵سو تو اس بیج کی طرح ہے جس نے اپنا سبزہ نکالا۔پھر موٹا ہوتا گیا۔یہاں تک کہ اپنے ساقوں پر قائم ہوگیا۔ان آیات میں خدائے تعالیٰ کی اُن تائیدات اور احسانات کی طرف اشارہ ہے اور نیز اُس عروج اور اقبال اور عزت اور عظمت کی خبر دی گئی ہے کہ جو آہستہ آہستہ اپنے کمال کو پہنچے گی۔۴۶۔اِنَّـا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّ۔مَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ۔۴۶ہم نے تجھ کو کھلی کھلی فتح عطا فرمائی ہے۔یعنی عطا فرمائیں گے۔اور درمیان میں جو بعض مکروہات اور شدائد ہیں وہ اس لئے ہیں تا خدائے تعالیٰ تیرے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرماوے۔یعنی اگر خدائے تعالیٰ چاہتا تو قادر تھا کہ جو کام مدِّنظر ہے وہ بغیر پیش آنے کسی نوع کی تکلیف کے اپنے