تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 787 of 1089

تذکرہ — Page 787

۵۰۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ نے بیان کیا کہ۔’’ایک مرتبہ حضرت اقدس ؑ کو خارش کی بہت سخت شکایت ہوگئی۔تمام ہاتھ بھرے ہوئے تھے۔لکھنا یا دوسری ضروریات کا سرانجام دینا مشکل تھا۔علاج بھی برابر کرتے تھے مگر خارش دُور نہ ہوئی تھی …ایک دن (مَیں ) حضرت ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا۔عصر کے قریب وقت تھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ؑ کے ہاتھ بالکل صاف ہیں مگر آپ ؑ کے آنسو بہہ رہے ہیں… مَیں نے جرأت کرکے پوچھا کہ حضور آج خلافِ معمول آنسو کیوں بہہ رہے ہیں۔حضور ؑ نے فرمایا کہ میرے دِل میں ایک معصیت کا خیال گزرا کہ اللہ تعالیٰ نے کام تو اِتنا بڑا میرے سپرد کیا ہے اور اِدھر صحت کا یہ حال ہے کہ آئے دن کوئی نہ کوئی شکایت رہتی ہے۔اِس پر مجھے الہام ۱؎ہوا کہ ’’ہم نے تیری صحت کا ٹھیکہ لیا ہے‘‘ اِس سے میرے قلب پر بے حد رِقت اور ہیبت طاری ہے کہ مَیں نے ایسا خیال کیوں کیا۔اِدھر تو یہ الہام ہوا مگر جب اُٹھا تو ہاتھ بالکل صاف ہوگئے اور خارش کا نام و نشان نہ رہا۔ایک طرف اِس پُر شوکت الہام کو دیکھتا ہوں دوسری طرف اُس فضل اور رحم کو تو میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور اس کے رحم و کرم کو دیکھ کر انتہائی جوش پید اہوگیا اور بے اختیار آنسو جاری ہوگئے۔‘‘ (الحکم جلد ۳۷ نمبر ۱۲ مورخہ ۷؍ اپریل ۱۹۳۴ء صفحہ ۴) ۵۱۔حافظ نور محمد صاحبؓ ساکن فیض اللہ چک بیان کرتے ہیں کہ۔’’ایک دفعہ مَیں نے اجازت چاہی کہ مَیں جانا چاہتا ہوں تو آپ ؑ نے فرمایا کہ نہیں آج رہو۔حضورؑ کو الہام ہوا تھا کہ ’’ وَ لَوْ اَلْقٰی مَعَاذِ یْرَہٗ ‘‘ یعنی اگر عُذر بھی کریں آج اجازت نہیں ملتی۔‘‘ (الحکم جلد ۳۷ نمبر ۳۲مورخہ ۷؍ ستمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۴) ۱ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) یہ الہام غالباً۱۸۹۱ء یا ۱۸۹۲ء کا ہے۔حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے خارش کی تکلیف کا واقعہ ۱۸۹۱ء بتلایا۔(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر ۲۶۲ صفحہ ۲۳۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب رضی اللہ عنہ نے اسے ۱۸۹۲ء کا۔(دیکھیے سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر ۵۷۴ صفحہ ۵۵۰، ۵۵۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)