تذکرہ — Page 786
۴۱۔’’ فِی النَّارِ مَوْعِدُ ھُمْ۔‘‘۱؎ (البشریٰ قلمی نسخہ مرتبہ صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ صفحہ ۱۸) ۴۲۔’’ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْـھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍۭ بَهِيْجٍ۔‘‘ ۲؎ ( البشریٰ قلمی نسخہ مرتّبہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ صفحہ ۵۳) ۴۳۔’’ رَبَّنَا لَا تَـجْعَلْنَا طُعْمَۃً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ۔‘‘۳؎ (البشریٰ قلمی نسخہ مرتّبہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ صفحہ ۵۳) ۴۴۔’’ اَشْـرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِـھَا۔‘‘۴؎ ( البشریٰ قلمی نسخہ مرتّبہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ صفحہ ۵۵) ۴۵۔’’دختر نیک آ گاہی شاں خورد تر چندیں سال۔‘‘۵؎ (البشریٰ قلمی نسخہ مرتّبہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ صفحہ ۵۷ ،۶۳) ۴۶۔’’اے خدا اِس پیالہ کو ٹال دے۔‘‘ ( البشریٰ قلمی نسخہ مرتّبہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ صفحہ ۸۹) ۴۷۔’’ نزول در قادیان۔‘‘۶؎ ( البشریٰ قلمی نسخہ مرتّبہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ صفحہ ۹۶) ۴۸۔’’ تیری نمازوں سے تیرے کام افضل ہیں۔‘‘۷؎ ( البشریٰ قلمی نسخہ مرتّبہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ صفحہ ۹۹) ۴۹۔مولانا جلال الدین صاحب شمس رضی اللہ عنہ شرح قصیدہ ’’یَا عَیْنَ فَیْضِ اللّٰہِ‘‘ میں لکھتے ہیں۔’’اِسی قصیدہ کے متعلق ایک اَور روایت مرحوم و مغفور حضرت پیر سراج الحق رضی اللہ عنہ کی ہے کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب یہ قصیدہ تصنیف فرماچکے تو آپ ؑ کا چہرہ مبارک خوشی سے چمکنے لگا اور فرمایا کہ یہ قصیدہ جنابِ الٰہی میں قبول ہوگیا اور خدا نے مجھ سے فرمایا جو اِس قصیدہ کو حِفظ کرے گا اور ہمیشہ پڑھے گا مَیں اس کے دِل میں اپنی اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی محبّت کوٹ کوٹ کر بھر دوں گا اور اپنا قرب عطا کروں گا۔‘‘ (شرح القصیدہ مؤلفہ مولانا جلال الدین شمسؓ صفحہ۱ ،۲۔مطبوعہ ۲۹؍ جون ۱۹۵۶ء) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ان کے متعلق آگ میں ڈالنے کا وعدہ ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اور ہم نے اس میں ہر قسم کی خوبصورت چیزیں اُگائیں۔۳ (ترجمہ از مرتّب) اے ہمارے رَبّ ہمیں ظالم قوم کی خوراک نہ بنا۔۴ (ترجمہ از مرتّب) زمین اپنے رَبّ کے نور سے جگمگا اُٹھی۔۵ (ترجمہ از مرتّب) ان کی نیک لڑکی سب سے چھوٹی چند سال کی ہے۔(نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اِس الہام کے متعلق پیر صاحبؓ نے البشریٰ صفحہ۶۳ پر لکھا ہے۔’’الہام منقول از بیاض حضرت ؑ آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی۔‘‘ ۶ (ترجمہ از مرتّب) قادیان میں نزول۔۷ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی جو عظیم الشان خدمات تو اسلام کی تائید میں بجا لا رہا ہے۔