تذکرہ — Page 772
بنی ہوئی قبریں دکھلائی گئی ہیں اور ایک فرشتہ مجھے کہتا ہے کہ یہ تیری اور تیرے اہل و عیال کی قبریں ہیں اور اِسی وجہ سے وہ قطعہ آپ کے خاندان کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔گو یہ خواب اِس طرح چھپی ہوئی نہیں لیکن مجھے یاد ہے کہ آپ نے اِسی طرح ذکر فرمایا۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۸؍ جون ۱۹۳۷ء۔الفضل جلد ۲۵ نمبر ۱۵۱ مورخہ ۲ ؍ جولائی ۱۹۳۷ء صفحہ ۱۱) ۱۹۰۷ء حافظ محمد ابراہیم صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ اُن ہی۱؎ دنوں میں حضور ؑ کو الہام ہوا جس کا مفہوم یہ تھا کہ۔’’مَیں تیرے صبر سے خوش ہوا ہوں اور تیرا صبر مجھے پسند ہے‘‘ (الحکم جلد ۳۷ نمبر ۴۴ مورخہ ۷؍ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۴) ۱۶؍ ستمبر۱۹۰۷ء ’’مبارک احمد کی وفات کے وقت بھی یہی الہام ہوا کہ۔اِنَّ الْمَنَا یَـا لَا تَطِیْشُ سِھَامُھَا ‘‘۲؎ اور پھر الہام ہوا کہ۔’’ یَـا اَیُّـھَا النَّاسُ اعْبُدُ وْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ‘‘۳؎ (تشحیذ الاذہان جلد ۳نمبر ۸پرچہ؍ اگست ۱۹۰۸ء صفحہ ۳۴۹) ۱۹۰۷ء حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شدید کھانسی ہوئی …۱۹۰۷ء کا واقعہ ہے …اور بعض اَوقات ایسا لمبا اُوچھو آتا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ سانس رُک جائے گا۔ایسی حالت میں باہرسے کوئی دوست آئے اور تحفہ کے طور پر پھل لائے۔مَیں نے وہ حضور ؑکے سامنے پیش کردیئے۔آپ نے انہیں دیکھا اور فرمایا۔کہہ دو ’’جَزَاکَ اللہ‘‘ اور پھر اُن میں سے کوئی چیز جو غالباً کیلا تھا اُٹھایا اور …فرمایا کہ یہ کھانسی میں کیسا ہوتا ہے۔مَیں نے کہا اچھا تو نہیں ہوتا مگر آپ مسکرا پڑے اور چھیل کر کھانے لگے۔مَیں نے پھر عرض کیا کہ کھانسی بہت سخت ہے اور یہ چیز ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی جب کہ الہام ’’سخت زلزلہ آیا اور آج بارش بھی ہوگی‘‘ ہوا تھا اور یہ الہام ۲۸؍فروری ۱۹۰۷ء کو ہوا۔دیکھیے صفحہ ۶۶۷۔۲ (ترجمہ از مرتّب) موتوں کے تیر خطا نہیں جاتے۔۳ (ترجمہ از مرتّب) اے لوگو! اپنے ربّ کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔