تذکرہ — Page 764
’’تائی آئی ‘‘ ہمارے تو کوئی تائی ہے نہیں نہ نزدیک نہ دُور، ہاں ہمارے لڑکوں کی تائی ہے جو وہ ہماری دشمن ہے۔پھر الہام ہوا۔’’تار آئی ‘‘ (البشریٰ قلمی نسخہ مرتبہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ صفحہ ۱۱۳ حاشیہ) ۲۵؍ فروری۱۹۰۱ء ’’ کَشَابٍ مَّسْلُوْخَۃٍ عِنْدَ وَعْظٍ مُّعَطَّلٍ۔‘‘۱؎ (الحکم جلد ۲۶ نمبر۱۹ ، ۲۰مورخہ۲۸/۲۱مئی ۱۹۲۴ءصفحہ ۱۸) ۱۹۰۱ء حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔(الف) ’’جب قادیان کی زندگی احمدیوں کے لئے اِس قدر تکلیف دِہ تھی کہ مسجد میں خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے آنے سے روکا جاتا۔راستہ میں کِیلے گاڑدیئے جاتے تاکہ گزرنے والے گریں۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بتایا مجھے دکھایا گیا ہے (کہ) یہ علاقہ اِس قدر آباد ہوگا کہ دریائے بیاس تک آبادی پہنچ جائے گی۔( الفضل جلد ۱۶ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۴؍ اگست۱۹۲۸ء صفحہ ۶ ) بقیہ حاشیہ۔اولاد میں سے خلیفہ ہوگا۔دوم یہ کہ اس وقت (حضور ؑ کی اولاد کی ) تائی صا حبہ جماعت میں شامل ہوں گی۔تیسرے تائی صاحبہ کی عمر کے متعلق پیشگوئی تھی …کہ وہ زندہ رہے گی اور آپ ؑ کی اولاد سے ایک خلیفہ ہوگا جس کی بیعت میں (وہ) شامل ہوگی۔‘‘ (خطبات محمود جلد ۱۱ صفحہ ۲۵۱ تا ۲۵۳ شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) تائی صاحبہ کا نام حُرمت بی بی تھا اور آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی زوجیت میں تھیں۔آپ نے ۱۹۱۶ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاتھ پر بیعت کی۔(دیکھیے الفضل مورخہ ۴؍ مارچ ۱۹۱۶ء) اور یکم؍ دسمبر ۱۹۲۷ءمیں ۹۷ سال کی عمر میں وفات پائی۔آپ موصیہ تھیں اور بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص میں مدفون ہوئیں۔( الفضل مورخہ ۹؍ دسمبر ۱۹۲۷صفحہ ۵ تا ۸ ) اور تار آئی سے یہ مراد تھی کہ یہ خبر گویا خدا تعالیٰ آسمانی تار کے ذریعہ دے رہا ہے۔(ایضاً) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) غالباً یہ لفظ کَشَاۃٍ ہے جو کاتب کی غلطی سے کَشَابٍ لکھا گیا۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اس میں ایک شخص کی حالت کا بیان ہے کہ اس کا حال ایک بے کار وعظ کے وقت بھی رِقّت سے ایسا ہوجاتا ہے، گویا کھال اُتری ہوئی بکری ہے۔