تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 765 of 1089

تذکرہ — Page 765

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔(ب) ’’مجھے یاد ہے اِسی میدان سے جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا ایک رؤیاسنایا تھا کہ قادیان بیاس تک پھیلا ہوا ہے اور مشرق کی طرف بھی بہت دُور تک اس کی آبادی چلی گئی ہے۔اُس وقت یہاں صرف آٹھ دس گھر احمدیوں کے تھے اور وہ بھی بہت تنگ دست، باقی سب بطور مہمان آتے تھے۔‘‘ (فرمودہ ۲۳؍ جنوری ۱۹۳۲ء بر موقع دعوت باعزاز مولانا جلال الدین شمسؓ۔الفضل جلد ۱۹ نمبر ۹۵مورخہ ۹؍ فروری۱۹۳۲ء صفحہ ۶ ) اگست۱۹۰۱ء حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ (مقدّمہء دیوار میں) ’’عدالت نے فیصلہ کیا کہ خرچ کا کچھ حصّہ ہمارے چچاؤں پر ڈالا جائے…جب اس ڈگری کے اجراء کا وقت آیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور میں تھے۔آپ ؑ کو عشاء کے قریب رؤیا یا الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ یہ بار اُن پر بہت زیادہ ہے اور اِس کی وجہ سے وہ (مخالف رشتہ دار) تکلیف میں ہیں چنانچہ آپ ؑ نے فرمایا کہ مجھے رات نیند نہیں آئے گی اِسی وقت آدمی بھیجا جائے جو جاکر کہہ دے کہ ہم نے یہ خرچ تمہیں معاف کردیا ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ۲۴؍ جولائی ۱۹۳۶ء۔الفضل جلد ۲۴ نمبر ۲۹مورخہ ۲؍ اگست ۱۹۳۶ء صفحہ ۸ ) ۱۷؍ دسمبر۱۹۰۱ء منشی محمد الدین صاحبؓ واصل باقی نویس نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کو الہام ہوا۔’’ لَا یَـاْ تُوْنَ بِـمِثْلِہٖ وَ لَوْ کَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیْرًا۔‘‘۱؎ ( رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۱ صفحہ ۱۱۶حاشیہ۔رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۴ صفحہ ۱۵۱) ۲۲؍ دسمبر۱۹۰۱ء نور محمد صاحبؓ پنشنر تحصیلدار موضع موچی پورہ ضلع ملتان نے بیان کیا کہ (مَیں جبکہ) ۲۲ ؍ دسمبر ۱۹۰۱ء کو دار الامان میں آیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اُس روز الہام ہوا تھا کہ۔’’قدیمانِ خود را بیفزائے قدر‘‘۲؎ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر۵ صفحہ ۷۶ ) ۱ (ترجمہ از مرتّب) وہ اس کی مانند نہیں لاسکیں گے خواہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اپنے قدیمی تعلق والوں کی قدر بڑھا۔