تذکرہ — Page 760
ابتلاؤں سے نجات ہو۔‘‘ (مکتوب۱؎ از حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ سیالکوٹی مندرجہ تشحیذ الاذہان جلد ۷ نمبر ۶ ؍ جون ۱۹۱۲ء صفحہ۲۴۷) ۵؍ جنوری ۱۹۰۰ء (الف) ’’۷؍ جنوری ۱۹۰۰ء کو صبح کی نماز کے وقت حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ پرسوں کی نماز میں جب مَیں التّحیّات کے لئے بیٹھا تو بجائے التّحیّات کے یہ دعا پڑھنے لگ گیا صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُـحَمَّدٍ وَّ عَلَیْکَ وَ یُـرَدُّ دُعَآءُ اَعْدَآءِکَ عَلَیْـھِمْ۲؎۔حضرت صاحب ؑفرماتے تھے کہ مَیں نے خیال کیا کہ یہ کیا پڑھ رہا ہوں ، تو معلوم ہوا کہ الہام ہے۔‘‘ (روایت منشی محمد الدین صاحب ؓ واصل باقی نویس۔رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۱ صفحہ ۱۰۴ و رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۴ صفحہ ۱۴۲) (ب) صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحبؓ جمالی نعمانی نے بیان کیا کہ۔’’ ایک روز مغرب کی نماز پڑھی گئی اور مَیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس کھڑا تھا۔جب نماز کا سلام پھیرا گیا تو آپ ؑ نے بایا ں ہاتھ میری دائیں ران پر رکھ کر فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب ! اِس وقت مَیں اَلتَّحِیَّات پڑھتا تھا الہاماً میری زبان پر جاری ہوا کہ۔صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ وَ عَلٰی مُـحَمَّدٍ۔‘‘ (الحکم جلد ۲۶ نمبر ۱۹، ۲۰ مورخہ ۲۱، ۲۸ ؍ مئی ۱۹۲۴ء صفحہ ۵) ۷؍ جنوری ۱۹۰۰ء منشی محمد الدین صاحب ؓ واصل باقی نویس ولد میاں نورالدین صاحب ضلع گجرات نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کو نمازِ عصر اَلتَّحِیَّات میں الہام ہوا۔’’وَاجْعَلْ لِّی غَلَبَۃً فِی الدُّ نْیَا وَالدِّیْنِ۔‘‘۳؎ ( رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۱ صفحہ ۱۰۴ ،۱۰۵۔رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۴ صفحہ ۱۴۲) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ مکتوب حضرت مولانا نے افریقہ کے ایک شخص کو لکھا کہ ’’آپ کا وعدہ ارسال روپیہ آنے سے ایک ہفتہ قبل حضور اقدس ؑ کو رؤیا ہوئی… پھر جب نام بنام فہرست چندہ پر مشتمل خط آیا تو تاویل وتصدیق واضح ہوگئی۔‘‘ (از مکتوب مذکور) ۲ (ترجمہ از مرتّب) اللہ تعالیٰ محمد ؐ پر صلوٰۃ بھیجے اور تجھ پر بھی ، اور تیرے دشمنوں کی بد دُعا اُن پر لوٹا دی جائے گی۔۳ (ترجمہ از مرتّب) اور دنیا اور دین میں مجھے غلبہ دے۔