تذکرہ — Page 745
نے مجھے ایک خط لکھا کہ مَیں نے خواب میں تمہارے تین جوان لڑکے دیکھے ہیں۔‘‘ (سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد ۱ حصّہ اوّل روایت نمبر ۹۱صفحہ ۶۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۴ء میر عنایت علی شاہ صاحبؓ لدھیانوی نے بیان کیا۔’’حضرت اقدس ؑ دہلی سے واپس ہوئے۔سرہند ریلوے سٹیشن پر حضرت اقدس ؑ کو الہام ہوا۔اِنَّـا لِلہِ وَ اِنَّـا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ …حضور ؑ نے فرمایا کہ اِس الہام میں کسی دوست کے گِرنے کی خبر ہے۔مجھے ڈر ہے کہ میر صاحب۱؎ہی نہ ہوں۔‘‘ ( رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱ صفحہ ۱۱۹) ۱۸۸۵ء شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی ایڈیٹر الحکم نے لکھا۔’’اللہ تعالیٰ کی ایک تحریک خفی کے ماتحت کچھ عرصہ کے لئے ضلع گورداسپور کے پہاڑی علاقہ (سوجان پور) کی طرف جاکر عبادت کرنا چاہتے تھے لیکن پھر خدا تعالیٰ کی صاف صاف وحی نے آپ ؑ کو ہوشیار پور جانے کا ایماء فرمایا اور اس شہر کا نام بتایا۔‘‘ (الحکم جلد ۳۹ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۴؍ اپریل ۱۹۳۶ء صفحہ۴) ۱۸۸۶ء میاں عبداللہ صاحب سنوریؓ نے بیان کیا کہ ایام چِلّہ ہوشیار پور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا۔’’ بُـوْرِکَ مَنْ فِیْـھَا وَ مَنْ حَوْلَھَا ‘‘۲؎ اور حضور ؑ نے تشریح فرمائی کہ مَنْ فِیْـھَا سے مَیں مُراد ہوں اور مَنْ حَوْلَھَا سے تم لوگ مراد ہو۔( سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد۱ روایت نمبر ۸۸ صفحہ ۶۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱ یعنی میر عباس علی شاہ صاحب لدھیانوی۔(شمس) ۲ (ترجمہ از مرتّب) برکت والا ہے وہ جو اس میں ہے اور جو اس کے اِردگرد ہیں۔(نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ الہام حضور ؑ کو ہوشیار پور کے چِلّہ کے دَوران ہوا۔میاں عبداللہ صاحبؓ سنوری کا بیان ہے کہ آپ ؑ اُوپر بالاخانہ میں رہتے تھے …ایک دن جب مَیں کھانا رکھنے اُوپر گیا تو حضور ؑ نے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔( سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر ۸۸ صفحہ ۶۵)