تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 712 of 1089

تذکرہ — Page 712

قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ لَکُمْ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۰، ۱۱) (ترجمہ) ان کو کہہ دے کہ میں تمہارے لئے مامور ہو کر آیا ہوں پس وہی کرو جو میں حکم کرتا ہوں۔(مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۴۶۶ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۸؍ اکتوبر۱۹۰۷ء ’’ ۱۔خیر اور نصرت اور فتح انشاء اللہ تعالیٰ۔۲۔وَ مَا مِنَّا اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ۱؎۔۳۔یَنْصُـرُکَ رِجَالٌ نُّـوْحِیْ اِلَیْـھِمْ مِّنَ السَّمَآءِ۔۴۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا۔۵۔وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۲؎۔حنیف مسیح۔‘‘ ( بدر جلد۶ نمبر ۴۲مورخہ ۱۷؍ اکتوبر۱۹۰۷ء صفحہ ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۷؍ اکتوبر۱۹۰۷ء صفحہ ۵) ۹؍ اکتوبر۱۹۰۷ء ’’ ۱۔خیر اور نصرت انشاء اللہ تعالیٰ۔۲۔رُدَّ اِلَیَّ صِـحَّتِیْ۳؎۔۳۔خیر اور نصرت اور فتح انشاء اللہ تعالیٰ۔۴۔وَ مَا مِنَّا اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ‘‘۴؎۔(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۲) ۱۳؍ اکتوبر۱۹۰۷ء ’’ ۱۔غَـرَّتْہُ الْـحَیٰوۃُ الدُّ نْیَا۔۲۔اُ مَمٌ سَنُمَتِّعُھُمْ۔‘‘ ۵؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۲) ۱۴؍ اکتوبر۱۹۰۷ء ’’ ۱۔یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُّـوْحِیْ اِلَیْـھِمْ مِّنَ السَّمَآءِ۶؎۔۲۔خلاصہ الہام فراموش۷؎ شدہ۔ہم نے اس پر ایک دنی الطبع کو مہربان کردیا۔۳۔ساقیا آمدنِ عید مبارک بادت۔‘‘۸؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۲، ۱۳) ۱ (ترجمہ ) ۲۔اور ہم میں سے ہر ایک کے واسطے ایک مقام معلوم ہے۔(بدر مورخہ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۲ (ترجمہ) ۳۔تجھے وہ لوگ مدد دیں گے جن کو ہم آسمان سے وحی کریں گے۔۴۔اس نے نجات پائی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور وہ نامراد ہوا جس نے اس کو گاڑ دیا۔۵۔اور ہم کسی بستی پر عذاب نہیں لاتے جب تک کہ اس میں رسول نہ بھیج لیں۔(بدر مورخہ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۳ (ترجمہ از ناشر) میری صحت بحال کردی گئی۔۴ (ترجمہ) ۴۔اور ہم میں سے ہر ایک کے واسطے ایک مقام معلوم ہے۔(بدر مورخہ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۵ (ترجمہ از ناشر) ۱۔اسے دنیاوی زندگی نے بہکا دیا۔۲۔بعض قوموں کوہم فائدہ پہنچائیں گے۔۶ (ترجمہ) ۱۔تجھے وہ لوگ مدد دیں گے جن کو ہم آسمان سے وحی کریں گے۔(بدر مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۷ (ترجمہ از ناشر) ۲۔بھول جانے والے الہام کا خلاصہ۔۸ (ترجمہ) ۳۔اے ساقی عید کا آنا تجھے مبارک ہو۔(بدر مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴)