تذکرہ — Page 705
۲۸؍اگست ۱۹۰۷ء ’’ مُفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَسْبَابُ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴) اگست۱۹۰۷ء (الف) ’’ تخمیناً؍ اگست میں حضرت نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ مقبرہ بہشتی میں ہیں۔قبرکھدواتے ہیں۔‘‘ ۲؎ ( بدر جلد۶ نمبر ۳۸مورخہ ۱۹؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۵۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷؍ ستمبر۱۹۰۷ء ضمیمہ صفحہ ب) (ب) ’’ فرمایا۔بعض اَوقات اگر باپ خواب دیکھے تو اس سے مراد بیٹا ہوتا ہے اور اگر بیٹا خواب دیکھے تو اس سے باپ مراد ہوتا ہے۔ایک دفعہ مَیں خواب میں یہاں (بہشتی مقبرہ) آیا اور قبر کھودنے والوں کو کہا کہ میری قبر دوسروں سے جدا چاہیے۔دیکھو جو میری نسبت تھا وہ میرے۲؎بیٹےکی نسبت پورا ہوگیا۔‘‘ ( الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخہ ۲۴؍ ستمبر۱۹۰۷ء صفحہ ۶) ۲ ؍ ستمبر ۱۹۰۷ء ’’ اَفَـمَنْ یُّـجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔‘‘۳؎ ( بدر جلد۶ نمبر ۳۷مورخہ ۱۲؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷؍ ستمبر۱۹۰۷ء صفحہ ۱) ۳؍ ستمبر۱۹۰۷ء ’’ ۱۔ایک بکرا مسلوخ اپنے مکان میں لٹکا ہوا دیکھا۔۲۔زلزلہ دیکھا جس سے ہماری دیواریں بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔وَاُصِیْبُہٗ۔یعنی میں خدا کے ہاتھ سے زمین پر گرتا ہوں اور خدا ہی کی طرف جائوں گا۔مَیں نے اپنے اجتہاد سے اس کی یہ تاویل کی کہ یہ لڑکا نیک ہوگا اور رُو بخدا ہوگا اور خدا کی طرف اِس کی حرکت ہوگی اور یا یہ کہ جلد فوت ہوجائے گا۔اِس بات کا علم خدا تعالیٰ کو ہے کہ ان دونوں باتوں میں سے کونسی بات اس کے ارادہ کے موافق ہے۔‘‘ چنانچہ اسی ارادہ ٔ الٰہی کے موافق مبارک احمد ۱۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء روز دوشنبہ کی صبح کو اپنے خدا سے جا ملا اور مقبرہ بہشتی میں دفن کیا گیا۔اِنَّـا لِلّٰہِ وَ اِنَّـا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔‘‘ ( بدر مورخہ ۱۹؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۱ (ترجمہ از ناشر) ان کی خاطر اسباب اچھی طرح کھلے رکھے جائیں گے۔۲ سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یعنی صاحبزادہ مبارک احمد صاحب۔چنانچہ صاحبزادہ صاحب کی قبر دوسری قبروں سے کسی قدر فاصلہ پر ہے۔۳ (ترجمہ از مرتّب) کیاجو ہستی ایک بے قرار ،لاچار کی پکار سننے والی ہے اُسے چھوڑ کر کسی اَور کو پکارا جائے کہہ اللہ ہے۔پھر انہیں ان کی بے ہودہ گوئی میں چھوڑ۔