تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 703 of 1089

تذکرہ — Page 703

فرمایا۔آج ہی ہماری لڑکی۱؎ نے بھی رؤیامیں دیکھا ہے کہ آسمان پر ستارے ٹوٹتے ہیں اور دھواں ہوکر چلے جاتے ہیں۔ایک فرشتہ پاس کھڑا ہے جو کہتا ہے کہ یہ دشمن مرتے ہیں۔فرمایا۔یہ خواب شاید ہماری خواب کی تعبیر ہے۔ہماری لڑکی کو خواب بہت آتے ہیں اور اکثر سچے ہوتے ہیں۔‘‘ ( بدر جلد۶ نمبر ۳۴ مورخہ ۲۲؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۷۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۴؍ اگست۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۱۹؍ اگست۱۹۰۷ء ’’ آید آں روزے کہ مستخلص شود‘‘۲؎ ( بدر جلد۶ نمبر ۳۴ مورخہ ۲۲؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۷۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۴؍ اگست۱۹۰۷ء صفحہ ۳) اگست ۱۹۰۷ء ’’ اِنِّیْ مَعَکَ یَـا اِبْرَاھِیْمُ۔لَا تَـخَفْ صَدَّ قْتُ قَوْلِیْ۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۴) ۲۳ ؍ اگست ۱۹۰۷ء (الف) ’’ اِنَّ۴؎ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ صَدُّ وْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ سَیَنَا لُھُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّـھِمْ یَـوْمَ تَـاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔اِنَّ خَبَرَ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَاقِعٌ۔لَا تَـحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا اِنَّ رَبِّیْ کَرِیْمٌ قَرِیْنٌ۔اِنَّہٗ فَضْلُ رَبِّیْ اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا۔اِنِّیْ مَعَکَ یَـا اِبْـرَاھِیْمُ۔لَا تَـخَفْ صَدَّ قْتُ قَوْلِیْ۔‘‘ ( بدر جلد۶ نمبر ۳۵مورخہ ۲۹؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۱ مورخہ ۳۱؍ اگست۱۹۰۷ء صفحہ ۱) (ب) ’’ سَیَنَالُھُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّـھِمْ۔‘‘۵؎ ( بدر جلد۶ نمبر ۳۷مورخہ ۱۲؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲۳مورخہ ۱۷؍ ستمبر۱۹۰۷ء صفحہ ۱) ۱ مراد حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ۔(مرزا بشیر احمد) ۲ (ترجمہ از مرتّب) وہ دن آرہا ہے کہ وہ تکلیف سے رہائی پائے۔۳ (ترجمہ) مَیں تیرے ساتھ ہوں اے ابراہیم۔تو کچھ خوف نہ کر۔مَیں نے اپنی بات کو سچا کر دکھایا۔(بدر مورخہ ۲۹؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۴ (ترجمہ) تحقیق وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور خدا تعالیٰ کی راہ سے روکا ان کو ان کے ربّ سے غضب پہنچے گا جس دن آسمان کھلے طور پر دھواں لائے گا اللہ کے رسول نے جو خبر دی تھی وہ واقع ہونے والی ہے غم نہ کر تحقیق اللہ ہمارے ساتھ ہے تحقیق میرا ربّ سخی ہے اور نزدیک ہے میرے ربّ نے فضل کیا وہ مجھ پر مہربان ہے مَیں تیرے ساتھ ہوں اے ابراہیم۔تو کچھ خوف نہ کر۔مَیں نے اپنی بات کو سچا کر دکھایا۔یعنی سچی کرکے دکھاؤں گا۔(بدر مورخہ ۲۹؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۵ (ترجمہ) قریب ہے کہ ان کو اُن کے ربّ کا غضب پہنچے گا۔(بدر مورخہ ۲۹؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۴)