تذکرہ — Page 698
۱۹۰۷ء ’’ایک ۱؎دفعہ ہم کو سخت دردِ گردہ تھا۔کسی دوا سے آرام نہ ہوتا تھا۔الہام ہوا۔اَلْوَدَاع اس کے بعد دَرد بالکل یک دفعہ بند ہوگیا تب معلوم ہوا کہ یہ الوداع دَرد کا تھا۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۲۸ مورخہ۱۱ ؍ جولائی۱۹۰۷ء صفحہ ۶) ۷؍جولائی ۱۹۰۷ء ’’حالیا مصلحتِ وقت دراں می بینم ‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۰) ۱۲؍ جولائی۱۹۰۷ء ’’ رَبِّ اَخْرِجْنِیْ مِنَ النَّارِ۔اَلْـحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ النَّارِ۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَ اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ۔وَ اُعْطِیْکَ مَا یَدُ وْمُ۔وَ لَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ اِلَی الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ۔۳؎ پھر الہام ہوا۔حالیا مصلحتِ وقت دراں می بینم۔بقیہ حاشیہ۔بہتر ہے۔بعد اس کے اسی نظارۂِ خواب میں چند پیسے دیکھے کہ وہ غم او ر تشویش پر دلالت کرتے ہیں جیسا کہ چنے کی دال بھی ایک ناگوار اور رنج کے امر پر دلالت کرتی ہے۔فقط… اس کے بعد حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ خواب اور الہام تو ایک طرح پورا ہوگیا ہے۔مگر ایک خیال مجھے باقی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ چیزیں جو رَنج اور خوشی پر دلالت کرتی ہیں وہ دوبارہ دکھلائی گئی ہیں۔یعنی اوّل چنے کی دال دکھلائی گئی اور پھر چند پیسے دکھلائے گئے۔ایسا ہی الہام بھی دو دفعہ ہوا کہ خَیْرٌ لَّھُمْ۔خَیْرٌ لَّھُمْ۔اِس لئے دل میں ایک یہ خیال ہے کہ خدانخواستہ کوئی اَور امرِ مکروہ پیش نہ آیا ہو جس کیلئے دو دفعہ ایسی چیزیں دکھلائیں گئیں کہ علمِ تعبیر کی رُو سے رنج اور تشویش پر دلالت کرتی ہیں اور ایسا ہی اُن سے محفوظ رکھنے کیلئے دو دفعہ یہ الہام ہواکہ خَیْرٌ لَّھُمْ۔خَیْرٌ لَّھُم۔یہ میرا خیال ہے۔خدا تعالیٰ ہر ایک رنج سے محفوظ رکھے۔آمین۔‘‘ ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) چونکہ اِس الہام کی تاریخ کا پتہ نہیں لگ سکا اِس لئے اسے اشاعت کی تاریخ میں درج کیا گیا۔۲ (ترجمہ از مرتّب) ابھی مَیں اسی میں مصلحت ِ وقت دیکھتا ہوں۔۳ (ترجمہ) اے میرے ربّ مجھے آگ سے نکال۔سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے آگ سے نکالا۔مَیں رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اس کو ملامت کروں گا جو اُسے ملامت کرے۔اور تجھے وہ چیز عطا کروں گا جو ہمیشہ رہے۔اور وقت ِمعلوم تک مَیں زمین پر رہوں گا۔(بدر مورخہ ۱۸؍جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۴)