تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 692 of 1089

تذکرہ — Page 692

کرتا ہے۔بعد اس کے الہام ہوا۔بدی کا بدلہ بدی ہے۔اُس کو پلیگ ہوگئی۔یہ پیشگوئی ہے یعنی اُس کو پلیگ ہوجائے گی۔پس مَیں یقین کرتا ہوں کہ جلد یا کچھ دیر کے بعد تم سن لو گے کہ کوئی ایسا سخت دشمن پلیگ کا شکار ہوجائے گا۔اگر ایسا کوئی دشمن جس پر تمہارے دل بول اٹھیں کہ یہ الہام کا مستحق ہوسکتا ہے طاعون میں مبتلا نہ ہوا تو تمہارا حق ہے کہ تم تکذیب کرو۔بعد اِس کے مجھے دکھلایا گیا کہ ’’ملک میں بہت غفلت اور گناہ اور شوخی پھیل گئی ہے اور لوگ تکذیب سے باز آنے والے نہیں جب تک خدا اپنا قوی ہاتھ نہ دکھلا دے۔‘‘ بعد اِس کے الہام ہوا۔۱۔اس کا نتیجہ سخت طاعون ہے جو ملک میں پھیلے گی وَیْلٌ یَّـوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّ۔بِیْنَ۔۱؎ ۲کئی نشان ظاہر ہوں گے۔۳۔کئی بھاری دشمنوں کے گھر ویران ہوجائیں گے۔وہ دُنیا کو چھوڑ جائیں گے۔۴۔ان شہروں کو دیکھ کر رونا آئے گا۔۵۔وہ قیامت کے دن ہوں گے۔۶۔زبردست نشانوں کے ساتھ ترقی ہوگی۔۷۔ایک ہولناک نشان۔یعنی ان میں سے ایک ہولناک نشان ہوگا۔شاید وہی زلزلہ ہو جس کا وعدہ ہے یا آسمان سے کوئی اَور نشان ظاہر ہو۔یا طاعون قیامت کا نمونہ دکھلاوے۔پھر خدا تعالیٰ مجھے مخاطب کرکے فرماتا ہے۔کہ ۸۔میری رحمت تجھ کو لگ جائے گی۔اللہ رحم کرے گا۔وَاللّٰہُ خَیْرٌ حَافِظًا وَّ ھُوَ اَرْحَـمُ الرَّاحِـمِیْنَ۔۲؎ ۹۔اَعْیَیْنَاکَ۔‘‘۳؎ (بدر جلد ۶ نمبر۲۰ مورخہ۱۶ ؍ مئی۱۹۰۷ء صفحہ ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر۱۷مورخہ ۱۷ ؍ مئی۱۹۰۷ء صفحہ ۷) ۱۳ ؍ مئی۱۹۰۷ء (الف) ’’۱۔سَنُنْجِیْکَ۔۲۔سَنُکْرِمُکَ اِکْرَامًا عَـجَبًا۔۴؎ ۱ (ترجمہ از مرتّب) اس دن جھٹلانے والوں کے لئے تباہی ہوگی۔۲ (ترجمہ از ناشر) ۸۔اور اللہ تعالیٰ نہایت ہی اچھا سب سے بڑھ کر محافظ ہے۔اور وہ ارحم الراحمین ہے۔۳ (ترجمہ) ۹۔یعنی ہم اِس قدر نشان دکھلائیں گے کہ تو دیکھتے دیکھتے تھک جائے گا۔(بدر ۱۶؍مئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۴ (ترجمہ) ۱۔ہم عنقریب تجھ کو دشمنوں کے شر سے نجات دیں گے۔۲۔اور ہم تجھے ایک عجیب طور پر بزرگی دیں گے۔(بدر مورخہ۱۶ ؍ مئی۱۹۰۷ء صفحہ ۵)