تذکرہ — Page 642
(ج) ’’لَنَبْلُوَنَّکُمْ ‘‘ ۱؎ (بدر جلد ۲ نمبر ۴۰ مورخہ ۴ ؍ اکتوبر ۱۹۰۶صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۳۴ مورخہ ۳۰ ؍ ستمبر۱۹۰۶صفحہ ۱ ) ۹؍اکتوبر ۱۹۰۶ء ’’ الہام۔اے عبد الحکیم! خدا تجھے ضرر سے بچاوے اور اندھا ہونے اور مفلوج ہونے اور مجذوم ہونے سے۔‘‘ ۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۶۶) ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۶ء ’’ دیکھا کہ کسی کی موت کی نسبت خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے اور الہام ہوا۔اِنَّ الْمَنَایَـا لَا تَطِیْشُ سِھَامُھَا۳؎ میں نے دعا کی کہ یا الٰہی تو ہر چیز پر قادر ہے تب الہام ہوا۔۱ (ترجمہ) البتہ ہم تم کو آزمائیں گے۔(بدر مورخہ ۴؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ ) ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۱ ؍اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱ اور الحکم مورخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں اس الہام سے قبل ایک خواب بدیں الفاظ درج ہے۔’’ مَیں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ میرا بھائی مرزا غلام قادر مرحوم ایک مضبوط گھوڑے پر سوار ہے اور مَیں نے خیال کیا کہ یہ فرشتہ ہے اور لفظ قادر کی مناسبت سے اُس شکل پر ظاہر ہوا ہے اور مَیں اُس کے آگے اِس قدر دوڑتا ہوں کہ گھوڑا پیچھے رہ جاتا ہے۔اس کے بعد ہم شہر میں داخل ہوگئے اور وہ فرشتہ جو میرے بھائی کی شکل پر تھا گھوڑے پر سے اُتر آیا اور اس کے ہاتھ میں ایک تازیانہ ہے اور ایک مضبوط سپاہی قوی ہیکل شکل میں ہے اور ہم نے شہر میں ایک طرف جانے کا ارادہ کیا۔گویا کوئی کام ہے یا کوئی خدمت ہے جو اس فرشتہ نے بجا لانی ہے۔بعد اس کے الہام ہوا۔اَے عبدالحکیم ! خدا تعالیٰ تجھے ہر ایک ضرر سے بچاوے۔اندھا ہونے اور مفلوج ہونے اور مجذوم ہونے سے۔اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ عبدالحکیم میرا نام رکھا گیا ہے۔خلاصہ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نہیں چاہتی کہ ان بیماریوں میں سے کوئی بیماری میرے لاحقِ حال ہو کیونکہ اس میں شماتت ِ اعداء ہے۔‘‘ (بدر مورخہ ۱۱ ؍ اکتوبر ۱۹۰۶صفحہ ۱۔الحکم مورخہ ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۰۶صفحہ ۱ ) ۳ (ترجمہ) یعنی موتوں کے تیر خطا نہیں جاتے۔(بدر مورخہ ۱۸؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳)