تذکرہ — Page 639
ہم نے آج کشفی نگاہ میں دیکھا کہ وہ الفاظ مٹے ہوئے ہیں مگر اس پر لکھا ہے۔خیر۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۳۸ مورخہ ۲۰ ؍ ستمبر ۱۹۰۶صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۳۳مورخہ ۲۴ ؍ ستمبر۱۹۰۶صفحہ ۱) ۱۷؍ ستمبر۱۹۰۶ء ’’ ۱۔قَالَ رَبُّکَ اِنَّہٗ نَـازِلٌ مِّنَ السَّمَآءِ مَا یُـرْضِیْکَ وَ مَا نَتَنَـزَّلُ اِلَّا بِـاَمْرِ رَبِّکَ۔۲۔قَدْ سَـمِعَ اللّٰہُ۔اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُکَ۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔۳۔بَـارَکَ اللّٰہُ فِیْ اِلْھَامِکَ وَ وَحْیِکَ وَرُؤْیَـاکَ۔۴کَتَبْتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَحْـمَۃً وَّ کَتَبْتُ لَکَ رَحْـمَۃً فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔۵۔نَزِیْدُ فِیْ رَحْـمَتِکَ وَوَفَآءِکَ وَصِدْ۔قِکَ۔۱؎ ۶۔کُلُّ مُکَذِّ۔بٍ جَآءَ۔یَـا اَیُّـھَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَاَھْلَنَا الضُّـرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَۃٍ مُّزْجَاۃٍ فَاَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ وَ تَصَدَّ قْ عَلَیْنَا اِنَّ اللّٰہَ یَـجْزِی الْمُتَصَدِّ۔قِیْنَ۔۷۔مَا اَنَـا اِلَّا کَالْقُرْاٰنِ وَ سَیَظْھَرُ عَلٰی یَدَیَّ مَا ظَھَرَ مِنَ الْفُرْقَانِ۔‘‘۲؎ (رؤیا) ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک فراخ اور خوبصورت چوغہ جو نہایت چمکدار تھا پہنے ہوئے جو پیروں تک پڑتا ہے چند لوگوں کے ساتھ ایک طرف جارہا ہوں۔۱ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۲۴؍ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں یہ الہام مع تفہیم یوں درج ہے۔’’ نَزِیْدُ فِیْ رَحْـمَتِکَ وَ صِدْقِکَ وَوَفَآءِکَ۔( اَیْ نَزِیْدُ بَـرَکَاتٍ۔یہ خدا کی طرف سے نہیں صرف تفہیم ہے میرے لفظوں میں۔)‘‘ ۲ (ترجمہ) ۱۔تیرے رَبّ نے فرمایا ہے کہ وہ تیرے لئے آسمان سے وہ چیز اتارنے والا ہے جو تجھے خوش کردے گی اور ہم تیرے رَبّ کے حکم کے سوائے کبھی نازل نہیں ہوتے۔۲۔اللہ تعالیٰ نے تیری دُعا سُن لی۔تیری دُعا قبول کی گئی۔اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور وہ جو نیکی کرتے ہیں۔۳۔برکت دی اللہ تعالیٰ نے تیرے الہام میں اور تیری وحی میں اور تیری خوابوں میں۔۴۔تجھ پر ایمان لانے والوں کے لئے مَیں نے رحمت لکھ دی ہے اور تیرے لئے دُنیا اور آخرت میں مَیں نے رحمت لکھ دی ہے۔۵۔تیری رحمت اور وفا اور صدق میں ہم زیادتی کریں گے۔۶۔سب مکذب آئے اور کہنے لگے۔اے عزیز ہم اور ہمارے اہل و عیال تکلیف میں ہیں اور ہم تھوڑی سی پونجی لائے ہیں۔پس ہمیں پورا ناپ تول دے اور ہم پر صدقہ کر۔تحقیق اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے۔۷۔مَیں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا جو کچھ کہ فرقان سے ظاہر ہوا۔(بدر مورخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳)