تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 640 of 1089

تذکرہ — Page 640

اور یہ بھی الہام ہوا۔خدا پنج بار اس کو ہلاکت سے بچائے گا۔(نامعلوم کس کے حق میں ہے)۔اور دیکھا کہ بھونچال آیا ہے اور ہم چھت کے نیچے سے نکل آئے اور مبارک میرے ساتھ ہے۔‘‘ (کاپی الہامات۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۷۳، ۱۷۲، ۱۷۱، ۱۷۰) ستمبر ۱۹۰۶ء ’’ میں نے دیکھا ایک کتاب ہے۔اس کا نام نَـہْجُ الْمُصَلِّی ہے پھر یہ الہام ہوا۔فَوْقٌ حَـمِیْدٌ۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۶۹) ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۶ء ’’دل مضطر اطمینان یافت۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۶۷) ۲۴؍ستمبر۱۹۰۶ء (الف) ’’موت ، تیراں ۱۳ماہ حال کو غالباًتیراں ماہ حال سے مُراد تیراںماہ شعبان ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔اور مَیں نہیں جانتا کہ تیراں ماہ حال سے یہی شعبان ہے یا کِسی اَور شعبان کی تیراں تاریخ اور مَیں قطعی طور پر نہیں جانتا کہ کِس کے حق میں ہے اِس لئے طبیعت غمگین ہے۔خدائے تعالیٰ فضل کرے۔آمین۔‘‘ (بدر۴؎ جلد ۲ نمبر ۳۹ مورخہ ۲۷ ؍ ستمبر ۱۹۰۶صفحہ ۳) ۱ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۲۴؍ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ میں ان الہامات کے الفاظ قدرے ترتیب کے فرق سے مذکور ہیں اور مزید یوں درج ہے۔’’ ۱۔رؤیا۔دیکھا کہ مَیں ایک فراخ اور خوبصورت اور چمک دار چوغہ پہنے ہوئے چند آدمیوں کے ساتھ ایک طرف جارہا ہوں اور وہ چوغہ میرے پاؤں تک لٹک رہا ہے اور چمک کی شعاعیں اس میں سے نکل رہی ہیں۔۲۔خدا اُس کو پنج بار ہلاکت سے بچائے گا۔( نامعلوم کِس کے متعلق یہ الہام ہے)۔۳۔رؤیا۔دیکھا کہ ایک بھونچال آیا۔کچھ دہشت ناک معلوم ہوا اور ہم چھت کے نیچے سے باہر آگئے مبارک میرے ساتھ تھا اور خفیف خفیف بارش کے قطرے خوشنما برس رہے تھے۔‘‘ ۲ (ترجمہ از مرتّب) قابلِ تعریف غلبہ۔۳ (ترجمہ از ناشر) بے قرار دل اطمینان پاگیا۔۴ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۲۴ ؍ ستمبر۱۹۰۶صفحہ ۱ میں یہ الہام مع تفصیل یوں درج ہے۔’’ موت۔تیران ماہ حال کو۔یہ فقرہ مذکورہ بالا وحی الٰہی کا زبان پر جاری ہوا۔غالباً وَاللہُ اَعْلَم ماہ حال سے مراد شعبان ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ معین طور پر یہی شعبان مراد ہے یا آئندہ کا کوئی اور ماہ شعبان ہے اور نہ میں قطعی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ کس کی موت مراد ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘