تذکرہ — Page 629
یَـجْعَلْ کَیْدَ ھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ۔وہ کام جو تم نے کِیا خدا کی مرضی کے موافق نہیں اُن کے مَکر کو اُلٹا کر اُنہی پر نہیں مارا۔وہ کام جو تم نے کِیا خدا کی مرضی کے موافق نہیں ہوگا۱؎۔اِنَّـا عَفَوْنَـا عَنْکَ۔لَقَدْ نَصَـرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْ۔رٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ۔ہوگا۔ہم نے تجھے معاف کیا۔خدا نے بدر میں یعنی اِس چودھویں صدی میں تمہیں ذِلّت میں پاکر تمہاری مدد کی۔وَ قَالُوْا اِنْ ھٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔قُلْ لَّوْکَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدْتُّمْ اور کہیں گے کہ یہ تو ایک بناوٹ ہے۔ان کو کہہ کہ اگر یہ کاروبار بجُز خدا کے کسی اَور کا ہوتا تو اِس میں فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا۔قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ۔بہت اختلاف تم دیکھتے۔ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم ایمان لاؤگے یا نہیں۔یَاْتِیْ قَـمَرُ الْاَ۔نْبِیَآءِ۔وَ اَمْرُکَ یَتَاَتّٰی۔وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّـھَا الْمُجْرِمُوْنَ۔نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام پُورا ہوجائے گا۔اور آج اے مجرمو ! تم الگ ہوجاؤ۔بھونچال آیا اوربشدت آیا۔زمین تہ و بالا کردی۲؎۔ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔بڑی شدّت سے زلزلہ آئے گا اور اُوپر کی زمین نیچے کردے گا۔یہ وہی وعدہ ہے جس کی تم جلدی کرتے تھے۔۱ اس کی تصریح نہیں کی گئی وَاللہُ اَعْلَمُ۔منہ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۸ حاشیہ ) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اِس بارہ میں خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے۔جیسا کہ یسعیاہ نبی کے زمانہ میں ہوا کہ اس نبی کی پیشگوئی کے مطابق پہلے ایک عورت مسمات علمہ کو لڑکا پیدا ہوا۔پھر بعد اس کے حزقیاہ بادشاہ نے فقہ۳؎ پر فتح پائی۔اسی طرح اس زلزلہ سے پیر منظور محمد لُدھانوی کی بیوی کو جس کا نام محمدی بیگم ہے لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس بڑے زلزلہ کے لئے نشان ہوگا جو قیامت کا نمونہ ہوگا مگر ضروری ہے کہ اس سے پہلے اَور زلزلے بھی آویں۔اس لڑکے کے مفصّلہ ذیل نام ہوں گے: بشیر الدولہ۔کیونکہ وہ ہماری فتح کے لئے نشان ہوگا۔کلمۃ اللہ خان۔یعنی خدا کا کلمہ۔عالم کباب۔وارڈ۔شادی خان۔کلمۃ العزیز وغیرہ۔کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا جس سے حق کا غلبہ ہوگا۔تمام دُنیا خدا کے ہی کلمے ہیں اِس لئے اس کا نام کلمۃ اللہ رکھنا غیر معمولی بات نہیں ہے۔وہ لڑکا، اَب کی دفعہ وہ لڑکا پیدا نہیں ہوا۔کیونکہ خدا نے فرمایا اَخَّرَہُ اللہُ اِلٰی وَقْتٍ مُّسَمًّی یعنی وہ زَلْزَلَۃُ السَّاعَۃ جس کے لئے وہ لڑکا نشانی ہوگا ہم نے اُس کو ایک اَور وقت پر ڈال دیا۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۹ حاشیہ) ۳ ایڈیشن اوّل میں فقہ لکھا تھا لیکن یسعیاہ باب ۷ کے مطابق یہ لفظ فِقح ہے جو ایک بادشاہ کا نام ہے۔(سید عبد الحی)