تذکرہ — Page 602
۱۹۰۶ء ’’ یَـا اَحْـمَدُ بَـارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔جو کچھ تُو نے چلایا وہ تُونے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔اَلرَّحْـمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔لِتُنْذِ رَ قَوْمًا مَّآ اُ نْذِ رَ اٰبَـآؤُھُمْ وَ لِتَسْتَبِیْنَ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے صحیح معنے تجھ پر ظاہر کئے تاکہ تُو اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے اور تاکہ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ وَاَنَـا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی معلوم ہوجائے کہ کون تجھ سے برگشتہ ہوتا ہے۔کہہ مَیں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور مَیں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔قُلْ جَآءَ الْـحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ۔اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا۔کُلُّ بَرَکَۃٍ مِّنْ مُّـحَمَّدٍ کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل بھاگنے والا ہی تھا۔ہر ایک برکت محمد صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔فَتَبَارَکَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ۔وَقَالُوْا اِنْ ھٰذَا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔پس بڑا مبارک وہ ہے جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی۔اور کہیں گے کہ یہ اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔قُلْ وحی نہیں ہے یہ کلمات تو اپنی طرف سے بنائے ہیں۔اُن کو کہہ وہ خدا ہے جس نے یہ کلمات نازل کئے پھر ان کو لہو و لعب کے خیالات میں چھوڑ دے۔ان کو کہہ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَـیَّ اِجْرَامٌ شَدِیْدٌ۔وَ مَنْ اَظْلَمُ مِـمَّنِ افْتَرٰی اگر یہ کلمات میرا اِفترا ہے اور خدا کا کلام نہیں تو پھر مَیں سخت سزا کے لائق ہُوں اور اُس انسان سے زیادہ تر کون ظالم ہے عَلَی اللّٰہِ کَذِ۔بًـا۔ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِـالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْـحَقِّ جس نے خدا پر افترا کیا اور جھوٹ باندھا۔خدا وہ خدا ہے جس نے اپنا رسول اور اپنا فرستادہ اپنی ہدایت اور سچّے دین کے ساتھ بھیجا۔لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِہٖ۔لَا مُبَدِّ۔لَ لِکَلِمٰتِہٖ۔یَقُوْلُوْنَ اَنّٰی لَکَ تا اُس دین کو ہر قسم کے دین پر غالب کرے۔خدا کی باتیں پُوری ہوکر رہتی ہیں کوئی اُن کو بدل نہیں سکتا۔اور لوگ کہیں گے کہ ھٰذَا اِنْ ھٰذَا اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ۔وَاَعَانَہٗ عَلَیْہِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ۔یہ مقام تجھے کہاں سے حاصل ہوا ؟ یہ جو الہام کرکے بیان کیا جاتا ہے یہ تو انسان کا قول ہے اور دوسروں کی مدد سے بنایا گیا ہے۔اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِـرُوْنَ۔ھَیْـھَاتَ ھَیْـھَاتَ لِمَا تُوْعَدُ۔وْنَ۔اے لوگو! کیا تم ایک فریب میں دیدہ و دانستہ پھنستے ہو؟ جو کچھ تمہیں یہ شخص وعدہ دیتا ہے اس کا ہونا کب ممکن ہے۔