تذکرہ — Page 601
تب معاً دعا کے بعد مجھے کشفی حالت میں معلوم ہوا کہ اس کے بستر پر چوہوں کی شکل پر بہت سے جانور پڑے ہیں اور وہ اُس کو کاٹ رہے ہیں اور ایک شخص اُٹھا اور اُس نے تمام وہ جانور اکٹھے کرکے ایک چادر میں باندھ دیئے اور کہا اِس کو باہر پھینک آؤ اور پھر وہ کشفی حالت جاتی رہی اور مَیں نہیں جانتا کہ پہلے وہ کشفی حالت دُور ہوئی یا پہلے مرض دُور ہوگئی اور لڑکا آرام سے فجر تک سویا رہا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۱؎۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۰، ۹۱ حاشیہ) ۱۰؍جولائی ۱۹۰۶ء ’’۱۔دیکھ مَیں آسمان سے تیرے لئے برساؤں گا اور زمین سے نکالوں گا پر وہ جو تیرے مخالف ہیں پکڑے جائیں گے۔۲۔صحن میں ندیاں چلیں گی اور سخت زلزلے آئیں گے۔۳۔یَـاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔۴۔یَـاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔۵۔وَ اُلْقِیَ بِہِ الرُّعْبُ الْعَظِیْمُ۔۶۔وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ۔۷۔سَاُکْرِمُکَ اِکْرَامًا عَـجَبًا۔۸۔دنیاکی بھی کامیابی ہوجائے گی اور آخرت بھی کی کامیابی ہوجائے گی۔۹۔ھَلْ اَتَـاکَ حَدِیْثُ الزَّلْزَلَۃِ مِنْ طُلُوْعِ الشَّمْسِ۔۱۰۔تَـأْتِیْ عَلَیْـھِمْ اَیَّـامٌ مُّبَارَکٌ۔ثُمَّ یَکْنِزُوْنَ لَھُمْ وَ یَکْثُرُ دُنْیَاھُمْ وَ مَا عَلَیْـھَا فَتَنْزِلُ عَلَیْـھِمُ الْمَصَآئِبُ وَلَا یَضُـرُّھُمُ اللہُ اِلٰی حَیَاتِکُمْ۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۰۵، ۲۰۴) ۱ (نوٹ از سید عبد الحی) بدر مورخہ ۱۲ ؍ جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ والحکم مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ پر یہ الہام مورخہ ۸؍ جون ۱۹۰۶ء کا لکھا گیا ہے جو درست نہیں۔صحیح تاریخ ۸؍ جولائی ۱۹۰۶ء ہے جو حقیقۃ الوحی میں درج ہے۔۲ (ترجمہ از ناشر) ۳۔لوگ دور دراز سے تیرے پاس آئیں گے۔۴۔تیرے پاس دور دور سے ھدایا آئیں گے۔۵۔اور اس کے ذریعہ ان کے دلوںمیں رعب عظیم ڈال دیا گیا۔۶۔ہلاکت ہو ہر غیبت کرنے والے سخت عیب جُو کے لئے۔۷۔میں تجھے ایسی بزرگی دوں گا جس سے لوگ تعجب میں پڑیں گے۔۹۔کیا تجھے زلزلہ کی پیشگوئی خدا تعالیٰ سے نہیں پہنچی جو طلوع شمس سے شروع ہوگا یا طلوع شمس سے اس کے غلبہ اور شدت کا ظہور ہوگا۔۱۰۔ان پر بابرکت ایام آئیں گے جن میں وہ اپنے لئے غلّہ جمع کریں گے اور ان کے لئے اور جو کچھ دنیا میں ہے اس کے لئے دنیوی مال و منال بہت ہوجائے گا پھر ان پر مصائب نازل ہوں گے مگر تمہاری ہوتے ہوئے یعنی تمہاری زندگی میں خدا انہیں ضرر نہیں پہنچائے گا۔