تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 593 of 1089

تذکرہ — Page 593

(ب) ’’مجھے یاد ہے کہ جب نظام الدین۱؎ کے لئے مَیں نے دعا کی تب خوا ب میں دیکھا کہ ایک چِڑا اُڑتا ہوا میرے ہاتھ میں آگیا اور اُس نے اپنے تئیں میرے حوالہ کردیا اور مَیں نے کہا کہ یہ ہمارا آسمانی رزق ہے جیسا کہ بنی اسرائیل پر آسمان سے رزق اُترا کرتا تھا۔‘‘ (از مکتوب بنام نواب محمد علی خان صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۳۰۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء ) ۵؍ جون۱۹۰۶ء ’’۱۔مَا اُرْ سِلَ نَبِیٌّ اِلَّا اَخْزٰی بِہِ اللّٰہُ قَوْمًا لَّا یُؤْمِنُوْنَ۔۲۔یُلْقِی الرُّوْحَ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ۔۲؎ ۳۔خدا۳؎ کی فیلنگ۴؎ اور خدا کی مُہر نے کتنا بڑا کام کیا۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر۲۳ مورخہ۷ ؍ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۲۰ مورخہ۱۰؍ جون۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’نظام الدین نام سیالکوٹ میں ایک مستری ہے۔چند روز ہوئے اس کا ایک خط میرے نام آیا…اس کا مضمون یہ تھا کہ مَیں فوجداری جُرم میں گرفتار ہوگیا ہوں اور کوئی صورت رہائی کی نظر نہیں آتی۔اس بے قراری میں مَیں نے یہ نذر مانی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اِس خوفناک مقدّمہ سے رہا کردے تو مَیں مبلغ پچاس روپیہ نقد آپ کی خدمت میں بلا توقف ادا کردوں گا۔اِتفاق ایسا ہوا کہ جب اس کا خط پہنچا تو مجھے خود روپیہ کی ضرورت تھی۔تب مَیں نے دعا کی کہ اے خدا ئے قادر و کریم ! اگر تُو اس شخص کو اس مقدّمہ سے رہائی بخشے تو تین طور کا فضل تیرا ہوگا۔اوّل یہ کہ یہ مضطر آدمی اس بَلا سے رہائی پا جائے گا۔دوم مجھے جو اِس وقت روپیہ کی ضرورت ہے میرا مطلب کسی قدر پُورا ہوگا۔سوم تیرا ایک نشان ظاہر ہوجائے گا۔دُعا کرنے سے چند روز بعد نظام الدین کا خط آیا… اور دوسرے روز پچاس روپے آگئے۔‘‘ (از مکتوب بنام نواب محمد علی خان صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۲۹۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲ (ترجمہ) ۱۔کوئی نبی نہیں بھیجا گیا مگر خدا نے اس کی وجہ سے ایک قوم کو رُسوا کیا جو ایمان نہیں لاتے تھے۔۲۔خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نبوت کی رُوح اس پر ڈالتا ہے۔(بدر مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اِس کے یہ معنے ہیں کہ خدا نے اس زمانہ میں محسوس کیا کہ یہ ایسا فاسد زمانہ آگیا ہے جس میں ایک عظیم الشان مصلح کی ضرورت ہے اور خدا کی مُہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پَیروی کرنے والا اِس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ اُمّتی ہے اور ایک پہلو سے نبی۔کیونکہ اللہ جل شانہٗ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب ِ خاتَم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اَور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔اِسی وجہ سے آپ ؐ کا نام خاتم النّبییّن ٹھہرا۔یعنی آپ ؐ کی پَیروی کمالاتِ نبوّت بخشتی ہے اور آپ ؐ کی توجہ ء ِروحانی نبی تراش ہے اور یہ قو ت ِ قدسیہ کسی اَور نبی کو نہیں ملی۔‘‘ ( حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۹۹ ، ۱۰۰ حاشیہ ) ۴ FEELING