تذکرہ — Page 577
۳۔اُرِیْکَ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔۴۔یَسْئَلُوْنَکَ اَحَقٌّ ھُوَ۔قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْ اِنَّہٗ لَـحَقٌّ۔وَلَا یُـرَدُّ عَنْ قَوْمٍ یُّعْرِضُوْنَ۔۵۔نَصْـرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتْحٌ مُّبِیْنٌ۔۱؎ ۶۔ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِـالْھُدیٰ وَ دِیْنِ الْـحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۔۲؎ ۷۔اَ۔لْاَمْرَاضُ تُـشَاعُ وَالنُّفُوْسُ تُضَا۳؎عُ۔۸۔نَـحْنُ اَوْلِیَآءُکُمْ فِی الْـحَیٰوۃِ الدُّ نْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ۔۹۔سَلَامٌ قَـوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ۔۴؎ ۱۰۔وَ یَسْئَلُوْ۵؎نَکَ اَحَقٌّ ھُوَ قُلْ اِیْ وَرَبِّیْ اِنَّہٗ لَـحَقٌّ۔وَ لَا یُـرَدُّ عَنْ قَوْمٍ یُّعْرِضُوْنَ۔۶؎ ۱۱۔اَرَادَ اللّٰہُ اَنْ یَّـبْعَثَکَ مَقَامًا مَّـحْمُوْدًا۔۱۲۔تَـاللّٰہِ لَقَدْ اٰثَـرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَ اِنْ کُنَّا لَـخَاطِئِیْنَ۔‘‘ (کاپی الہامات۷؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۴) بقیہ ترجمہ۔۳۔میں تجھے وہ زلزلہ دکھاؤں گا جو اپنی شدت کی وجہ سے نمونہ ٔ قیامت ہوگا۔۴۔تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ بات سچ ہے کہہ کہ ہاں۔میرے ربّ کی قسم ہے اور اعراض کرنے والی قوم سے وہ عذاب نہیں ٹلے گا۔(بدر مورخہ ۱۲؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۱ (ترجمہ) ۵۔یہ دن خدا کی مدد اور فتح کے ہوں گے۔(دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۲۸) ۲ (ترجمہ) ۶۔خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو (یعنی اس عاجز کو) ہدایت اور دین حق دے کر اس غرض سے بھیجا ہے تا وہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۸) ۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۲؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں اس الہام کے بارہ میں تحریر ہے کہ ’’فرمایا۔یہ الہام پہلے بھی ہوچکا ہے اب پھر ہوا ہے اور خوف ہے کہ اس سے کیا مطلب ہے۔معلوم نہیں کہ قادیان کے متعلق ہے یا پنجاب کے متعلق ہے۔‘‘ ۴ (ترجمہ) ۷۔ملک میں بیماریاں پھیلیں گی اور بہت جانیں ضائع ہوں گی۔۸۔ہم تمہارے متولّی اور متکفل دنیا اور آخرت میں ہیں۔۹۔تم سب پر اس خدا کا سلام جو رحیم ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۸۹، ۹۰، ۹۴ ، ۹۷) ۵ (ترجمہ) ۱۰۔اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا ایسے زلزلہ کا آنا سچ ہے؟ کہہ کہ خدا کی قسم اُس زلزلہ کا آنا سچ ہے اور خدا سے برگشتہ ہونے والے کسی مقام میں اس سے بچ نہیں سکتے۔۱۱۔خدا نے ارادہ کیا ہے جو تجھے وہ مقام بخشے جس میں تو تعریف کیا جائے گا۔۱۲۔خدا کی قَسم خدا نے ہم سب میں سے تجھے چن لیا اور ہماری خطا تھی جو ہم برگشتہ رہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۹۳، ۹۵، ۹۶، ۱۰۵) ۶ الاستفتاء۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۰۲ میں یہ الہام یوں درج ہے ’’ وَلَا یُرَدُّ بَاْسُہٗ عَنْ قَوْمٍ یُّعْرِضُوْنَ۔(شمس) ۷ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۲؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ و الحکم مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں بھی یہ الہامات ترتیب کے اختلاف سے درج ہیں۔علاوہ ازیں تحریر ہے کہ ان میں سے بعض الہامات مکرر ہیں یعنی پہلے بھی ہوچکے ہیں اور آج پھر بھی ہوئے۔