تذکرہ — Page 547
گویا میں نے دیکھا تھا کہ میں دلّی سے بخیر و عافیت قادیان پہنچ گیا ہوں۔‘‘؎۱ (کاپی الہامات؎۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۳) ۷؍ دسمبر ۱۹۰۵ء ۱۔’’ قَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ وَلَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَـاتِ ذِکْرًا۔قَلَّ مِیْعَادُ رَبِّکَ وَلَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَـاتِ شَیْئًا۔وَاٰخِرُ دَعْوَانَـا اَنِ الْـحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔‘‘۳؎ (بدر جلد ۱ نمبر۳۸ مورخہ۸؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۴۳ مورخہ۱۰؍ دسمبر۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۔’’ قَلَّ مِیْعَادُ رَبِّکَ۔وَاٰخِرُ دَ عْوَانَـا اَنِ الْـحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔خدایا زندگی بخش۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۳) ۱۰؍۴؎ دسمبر۱۹۰۵ء الہام۔’’ ۱۔اُنْـزِلَ فِیْـھَا کُلُّ رَحْـمَۃٍ۔۲۔اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَـھْدِیْنِ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۳) (ترجمہ) ۱۔یعنی ہر ایک قِسم کی رحمت اِس قبرستان میں اُتاری گئی ہے۔(الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۸) ۱ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) حضرت امیر المؤ منین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں۔’’اِس الہام کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی تشریف لے ہی نہیں گئے۔آخری سفر جو آپ نے دہلی کی طرف کیا وہ ۱۹۰۵ء کا ہے۔تو یہ ایک پیشگوئی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کا مثیل دہلی جائے گا۔لوگ اس پر پتھراؤ کریں گے۔یہ جو سنگباری کی گئی یہ دراصل مجھ پر تھی جسے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مسند پر بٹھایا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ آپ کو یعنی آپ کے مظہر کو صحیح و سالم قادیان لے آئے گا… یہ جو کہا گیا ہے کہ مجھے صحیح و سالم پہنچا دیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض دوسروں کو نقصان پہنچے گا۔‘‘ (الفضل مورخہ ۳؍مئی ۱۹۴۴ء صفحہ ۵) ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۹؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ میں اس الہام کی تفصیل میں معمولی لفظی اختلاف ہے۔بدر کی تفصیل یوں ہے۔’’رؤیا میں دیکھا کہ دہلی گئے اور بخیریت واپس آئے ہیں۔پھر الہاماً یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے۔اَلْـحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ اَوْصَلَنِیْ صَـحِیْحًا۔‘‘ ۳ (ترجمہ از مرتّب) تیر ی مقدّر اجل قریب ہے اور ہم تیرے لئے کوئی رُسوا کن ذکر باقی نہیں چھوڑیں گے۔تیرے رَبّ کی میعاد تھوڑی رہ گئی ہے اور ہم تیرے لئے کوئی رُسوا کن چیز نہیں چھوڑیں گے اور ہماری آخری بات یہ ہے کہ سب تعریف خدا کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔۴ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۸؍دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ اورالحکم مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۱ میں الہام’’ اُنْـزِلَ فِیْـھَا کُلُّ رَحْـمَۃٍ۔‘‘ کی تاریخ نزول ۹؍دسمبر ۱۹۰۵ء درج ہے۔نیز تحریر ہے کہ ’’نئے قبرستان کی زمین کے متعلق الہام ہوا۔‘‘