تذکرہ — Page 33
’’ یکے پائے من مے بوسید و من مے گفتم کہ حجرِ اَسود منم‘‘۱؎ (اربعین نمبر ۴ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۴۴، ۴۴۵ حاشیہ) (ب) ’’ایک پورانا الہام قریباً پچیس سال کا ’’شخصے پائے من بوسید من گفتم کہ سَنگِ اَسود منم‘‘ ؎۲ (الحکم جلد۱۰نمبر ۳۷ مورخہ ۲۴ ؍اکتوبر۱۹۰۶ء صفحہ ۱) ۱۸۸۱ء (تخمیناً) ’’عرصہ تخمیناً اٹھارہ برس کا ہوا ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پاکر چند آدمیوں کو ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے اس بات کی خبر دی کہ خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ اِنَّـا نُبَشِّـرُکَ بِغُلَامٍ حَسِیْنٍ۔یعنی ہم تجھے ایک حسین لڑکے کے عطا کرنے کی خوشخبری دیتے ہیں۔میں نے یہ الہام ایک شخص حافظ نور احمد امرتسری کو سنایا جو اب تک زندہ ہے اوربباعث میرے دعویٰ مسیحیت کے مخالفوں میں سے ہے اور نیز یہی الہام شیخ حامد علی کو جو میرے پاس رہتا تھا سنایا اور دو ہندوؤں کو جو آمدورفت رکھتے تھے۔یعنی شرمپت اور ملاوا مل ساکنانِ قادیان کو بھی سنایا اور لوگوں نے اس الہام سے تعجب کیا کیونکہ میری پہلی بیوی کو عرصہ بیس سال سے اولاد ہونی موقوف ہوچکی تھی اور دوسری کوئی بیوی نہ تھی لیکن حافظ نور احمد نے کہا کہ خدا کی قدرت سے کیا تعجب کہ وہ لڑکا دے۔اس سے قریباً تین برس کے بعد… دہلی میں میری شادی ہوئی اور خدا نے وہ لڑکا بھی دیا اور تین اور عطا کئے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۰۰،۲۰۱) ۱۸۸۱ ء(تخمیناً) ’’ اُشْکُرْ نِعْمَتِیْ رَأَیْتَ خَدِ یْـجَـتِیْ‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد۱صفحہ ۶۶۶ حاشیہ در حاشیہ نمبر۴) ’’ ترجمہ۔میرا شکر کر کہ تُو نے میری خدیجہ کو پایا۔۱ (ترجمہ از ناشر) ایک شخص میرے پاؤں کو چومتا ہے اور میں کہتا ہوں کہ میں حجر اسود ہوں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) ایک شخص نے میرے پاؤں کو چوما اور میں نے (اُسے) کہا کہ حجرِ اسود مَیں ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ قَالَ الْمُعَبِّرُوْنَ اَنَّ الْمُرَادَ مِنَ الْـحَـجَرِ الْاَسْوَدِ فِیْ عِلْمِ الرُّؤْیَا۔اَلْمَرْءُ الْعَالِمُ الْفَقِیْہُ الْـحَکِیْمُ۔‘‘ (الا ستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۶۳ حاشیہ) (ترجمہ از مرتّب) معبّرین نے کہا ہے کہ علم رؤیا میں حجرِ اسود سے مراد عالم، فقیہ اور حکیم ہوتا ہے۔