تذکرہ — Page 534
۲۳؍ ستمبر۱۹۰۵ء طَلَعَ۱؎ الْبَدْ رُ عَلَیْنَا مِنْ ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعٖ وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا مَا دَعَا لِلہِ دَاعٖ۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۹ ) ۲۴؍ ستمبر۱۹۰۵ء ’’۱۔تَـاْتِیْ۳؎ نُصْـرَتِیْ۔۲۔یَـاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔‘‘۴؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۹ ) ۲۷؍ ستمبر۱۹۰۵ء ’’ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا۔؎۵ یعنی نیک ہے از رو قرار گاہ و مقام کے۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۹) ۲۸؍ستمبر۱۹۰۵ء بقیہ حاشیہ۔عَلٰی تِـجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ تُـؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَتُـجَاھِدُ وْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِـاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ۶؎… غرض معمولی زندگی جو بغیر کسی عوض کے تھی وہ تو بند ہوچکی ہے لیکن اَب تجارتی زندگی باقی ہے یعنی وہ زندگی جو دعاؤں کا نتیجہ ہے اسی نے رحمت اللہ کو جاتے جاتے روک لیا ہے۔‘‘ ( بدر مورخہ۲۲؍ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۷) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ہم پر وداع کی گھاٹی سے بدر کا طلوع ہوا۔ہم پر شکر کرنا لازم ہے جب تک کوئی دعا کرنے والا دعا کرسکتا ہے۔۲ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ۲۴؍ ستمبر۱۹۰۵ء صفحہ۲ اور بدر مورخہ۲۹؍ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۳ میں الہام کی تاریخ ۲۲؍ستمبر اور صرف مصرعہ اولیٰ درج ہے۔یعنی طَلَعَ الْبَدْ رُ عَلَیْنَا مِنْ ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعٖ۔(نوٹ از شیخ یعقوب علی عرفانیؓ ایڈیٹر الحکم) ۲۱؍ستمبر کی رات کو اعلیٰ حضرت مولوی صاحب کے لئے بہت دعا کرتے رہے۔اس پر (یہ) الہام ہوا۔(الحکم مورخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲) ۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲ میں اس الہام کی تاریخ ۲۷؍ ستمبر درج ہے اور الفاظ یوں ہیں۔’’ تَـاْتِیْکَ نُصْـرَتِیْ۔‘‘ ۴ (ترجمہ از ناشر) ۱۔میری نصرت آئے گی۔۲۔ہر ایک دُور کی راہ سے تیرے پاس تحائف آئیں گے۔۵ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲ پر اس الہام کی تاریخ ۲۸؍ستمبر درج ہے۔۶ (ترجمہ از ناشر) اے مومنو! میں تمہیں ایک تجارت کی خبر دیتا ہوں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچائے اور وہ یہ ہے کہ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں کوشش کرو۔(الصّف : ۱۱ ،۱۲)