تذکرہ — Page 510
نہ ہوتی مگر حضرت صاحب کی دعا کا سبب ہے کہ اَب تُو اچھی ہوجائے گی۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۷۸، ۳۷۹) یکم مئی۱۹۰۵ء ۱۔’’عالم کشف میں ایک اشتہار دکھایا گیا۔اس کے سر پر لکھا ہوا ہے۔اَلْــــمُــبَارَکُ پھر بطور وحی کے زبان پر جاری ہوا۔بَـرَکَۃٌ زَائِدَ ۃٌ عَلٰی ھٰذَا الرَّجُلِِ ؎۱ اِس کے بعد ایک رؤیاہوا کہ مَیں رات کو اُٹھا ہوں۔پہلے بشیر احمد، شریف احمد ملے۔پھر مَیں آگے جاتا ہوں کہ پہرے والوں کو دیکھوں تو مَیں کہتا ہوں یا کوئی کہتا ہے کہ اس کے آگے فرشتے پہرہ دے رہے ہیں۔‘‘ ( بدر۲؎ جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ ۲۷ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۔رؤیا۔’’دیکھا کہ زلزلہ آیا ہے۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ ۲۷ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۱) ۳؍ مئی۱۹۰۵ء ۱۔’’ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی۔؎۳ فرمایا۔اِ س سے اشارہ اُن اشتہارات کی طرف معلوم ہوتا ہے جو حال میں شائع ہورہے ہیں۔‘‘ ۲۔رؤیا۔صبح کے وقت لکھا ہوا دکھایا گیا۔’’ آہ نادر شاہ کہاں گیا۔‘‘؎۴ ( بدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ ۲۷ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱ و الحکم جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخہ۱۰ ؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۱ (ترجمہ) یعنی ایک سے زیادہ برکت ہے اس مرد پر۔( بدر مورخہ ۲۷ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱ میں بدر میں درج کشف باختلاف الفاظ موجود ہے جب کہ بعد والی رؤیا الحکم مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۱ میں درج ہے۔۳ (ترجمہ از مرتّب) جو تیر تُو نے چلایا وہ تُو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔۴ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یہ پیشگوئی اِس طور پر پوری ہوئی کہ ۱۹۲۹ء میں جب امیر امان اللہ خاں والیء تخت افغانستان کی حکومت کا تختہ اللہ تعالیٰ نے حبیب اللہ خاں المعروف بچہ سقّہ کے ہاتھ سے اُلٹوایا تو افغانوں نے جلد ہی نادر خاں کو جو اُس وقت فرانس میں تھا، اپنی مدد کے لئے بلایا چنانچہ نادر خاں آیا اور ا س کے ہاتھ سے بچہ سقّہ گرفتار ہوکر مارا گیا اور نادر خاں افغانستان کا بادشاہ بن گیا۔اس وقت ا س نے اپنے خاندانی اور ملکی لقب ’’خان‘‘ کو چھوڑ کر