تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 509 of 1089

تذکرہ — Page 509

نے بار بار زلزلہ رکھا ہے۔مَیں نہیں جانتا کہ وہ قریب ہے یا کچھ دنوں کے بعد خدا تعالیٰ اُس کو ظاہر فرمادے گا۔مگر بار بار خبر دینے سے یہی سمجھاجاتا ہے کہ بہت دُور نہیں ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی خبر اور اُس کی خاص وحی ہے جو عالم الاسـرار ہے… خدا فرماتا ہے کہ مَیں چُھپ کر آؤں گا۔مَیں اپنی فوجوں کے ساتھ اس وقت آؤں گا کہ کسی کو گمان بھی نہ ہوگا کہ ایسا حادثہ ہونے والا ہے۔غالباً وہ صبح کا وقت ہوگا یا کچھ حصّہ رات میں سے، یا ایسا وقت ہوگا جو اس سے قریب ہے… اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس روز مَیں اُن پر رحم کروں گا جن کے دل مجھ سے ترساں اور ہراساں ہیں جو نہ بدی کرتے ہیں اور نہ بدی کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں۔اور خدا نے یہ بھی فرمایا کہ اس روز تیرے لئے فتحِ نمایاں ظاہر ہوگی۔کیونکہ خدا اس روز وہ سب کچھ دکھلائے گا جو قبل از وقت دنیا کو سنایا گیا۔خوش قسمت وہ جو اَب بھی سمجھ جائے… مجھے خدا تعالیٰ نے اطلاع دی ہے تا وہ جو خدا تعالیٰ کو شناخت نہیں کرتے اور نہ مجھ کو، اُن کو پتہ لگ جائے۔مَیں محض ہمدردی کی راہ سے یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر بڑے بڑے مکانوں سے جو دو منزلے سہ منزلے ہیں اجتناب کریں تو اس میں رعایت ظاہر ہے آئندہ ان کا اختیار۔‘‘ ( اشتہار ۲۹؍ اپریل ۱۹۰۵ء بروز شنبہ مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۳۶۵،۳۶۶ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) اپریل۱۹۰۵ء ’’جب ہم بہار کے موسم میں ۱۹۰۵ء میں باغ میں تھے تو مجھے اپنی جماعت کے لوگوں میں سے جو باغ میں تھے کسی ایک کی نسبت یہ الہام ہوا تھا کہ خدا کا ارادہ ہی نہ تھا کہ اُس کو اچھا کرے مگر فضل سے اپنے ارادہ کو بدل دیا اِس الہام کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ سید مہدی حسین صاحب جو ہمارے باغ میں تھے اور ہماری جماعت میں داخل ہیں اُن کی بیوی سخت بیمار ہوگئی۔وہ پہلے بھی تپ اور ورم سے جو منہ اور دونوں پَیروں اور تمام بدن پر تھی، بیمار تھی اور بہت کمزور تھی اور حاملہ تھی۔پھر بعد وضع حمل جو باغ میں ہوا اُس کی حالت بہت نازک ہوگئی اور آثار نومیدی ظاہر ہوگئے اور مَیں اس کے لئے دعا کرتا رہا۔آخر خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کو دوبارہ زندگی حاصل ہوئی …دوسرے روز سید مہدی حسین کی اہلیہ کی زبان پر یہ الہام مِن جانب اللہ جاری ہوا۔تُو اچھی تو