تذکرہ — Page 504
ہوش اُڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار ہر مسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی راہ کو بھولیں گے ہوکر مَست و بیخود راہوار (بلبل) خون سے مُردوں کے کوہستان کے آبِ رواں سُرخ ہوجائیں گے جیسے ہو شرابِ انجبار مضمحل ہوجائیں گے اس خوف سے سب جن و اِنس زار بھی ہوگا تو ہوگا اُس گھڑی باحالِ زار اِک نمونہ قہر کا ہوگا وہ ربّانی نشاں آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفیہِ ناشناس اِس پہ ہے میری سچائی کا سبھی دارومدار وحیِ حق کی بات ہے ہوکر رہے گی بے خطا کچھ دنوں کر صبر ہوکر متّقی اور بُردبار‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۵۱، ۱۵۲) (نوٹ) ’’خدا تعالیٰ کی وحی میں زلزلہ کا بار بار لفظ ہے اور فرمایا کہ ایسا زلزلہ ہوگا جو نمونہ قیامت ہوگا۔بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہنا چاہیےجس کی طرف سورۃ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا اشارہ کرتی ہے لیکن مَیں ابھی تک اِس زلزلہ کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہر پر جما نہیں سکتا۔ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اَور شدید آفت۱؎ ہو جو قیامت کا نمونہ دکھاوے جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔ہاں اگر ایسا فوق العادت نشان ظاہر نہ ہو اور لوگ کھلے طور پر اپنی اصلاح بھی نہ کریں تو اُس صورت میں مَیں کاذب ٹھہروں گا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۵۱ حاشیہ) ۱۸؍ اپریل۱۹۰۵ء (الف)’’دیکھا کہ زور سے اللہ اکبر اللہ اکبر (ساری اذان) کہہ رہا ہوں۔ایک اُونچے درخت پر ایک آدمی بیٹھا ہے۔وہ بھی یہی کلمات بول رہا ہے۔اس کے بعد مَیں نے بآوازِ بلند درُود شریف پڑھنا شروع کیا اور اس کے بعد وہ آدمی نیچے اُتر آیا اور اُس نے کہا کہ سید محمد علی شاہ آگئے ہیں۔اس کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ بڑے زور سے زلزلہ آیا ہے ا ور زمین اس طرح اُڑ رہی ہے جس طرح رُوئی دُھنی جاتی ہے۔اس کے بعد یہ وحی نازل ہوئی۔ہے سرِ راہ پر تمہارے وہ جو ہے مولا کریم۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر ۳ مورخہ ۲۰ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اگر خدا تعالیٰ نے اس آفت ِ شدیدہ کے ظہور میں بہت ہی تاخیر ڈال دی تو زیادہ سے زیادہ سولہ سال ہیں اس سے زیادہ نہیں۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۵۸)